رسائی کے لنکس

logo-print

برما کی فوج کو روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کا ذمہ دار ٹہرانے کا مطالبہ


میانمر کی شمالی ریاست کے ایک گاؤں گوڈو زارا میں فوج نے روہنگیا اقلیت کے گھروں کو آگ لگا دی۔ ستمبر 2017

لگ بھگ 7 لاکھ روہنگیا مسلمانوں کو پچھلے سال اگست سے اس وقت میانمر کی مشرقی ریاست راکھین سے فرار کر سرحد پار پناہ لینے پر مجبور ہونا پڑا، جب فوج نے انہیں سفاکانہ طریقے سے قتل کیا، آبادیوں کو جلا کر راکھ کیا اور خواتین کے ساتھ جنسی زیادتیاں کیں۔

امریکہ کے ہالوکاسٹ میوزیم نے کہا ہے کہ میانمر میں روہنگیا مسلمان اقلیت کی نسل کشی کے واضح ثبوت ملے ہیں۔

میوزیم کی نسل کشی امور سے متعلق نگران کمیٹی کے چیئر مین لی فین سٹین نے امریکہ اور بین الاقوامی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ برما کی فوج پر اس کی ذمہ داری عائد کریں۔

کمیٹی کے چیئرمین فین سٹین کا کہنا تھا کہ روہنگیا کمیونٹی کے وہ بچے کچے افراد جو ابھی تک برما میں موجود ہیں اور وہ جنہیں واپس بھیجے جانے کا خطرہ لاحق ہے، کے تحفظ کے لیے اس مطالبے پر عمل درآمد کیا جائے۔

یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پبلک انٹرنیشنل لاء اور پالیسی گروپ نے اس بحران کے مطالعے کے لیے امریکہ کے محکمہ خارجہ سے رابطہ کیا۔ انہوں نے ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ برما کی فوج برما نے انسانیت کے خلاف جرائم، نسل کشی اور روہنگیاؤں کے خلاف جنگی جرائم کیے ہیں۔

اس بیان میں امریکی تفتیش کار شامل ہیں جنہوں نے اگست میں حقائق پر مبنی اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ فوج نے روہنگیاؤں کے خلاف نسل کشی کی نیت سے بڑی سفاکی کے ساتھ سفاکانہ مظالم کیے تھے۔

لگ بھگ 7 لاکھ روہنگیا مسلمانوں کو، مشرقی میانمر کی ریاست راکھین سے پچھلے سال اگست سے فرار ہو کر سرحد پار پناہ لینی پڑی جب روہنگیا علیحدگی پسندوں کے حملوں کا جواب بودھ اکثریت کی حکومت نے فوج کے ذریعے فوری طور پر سفاکانہ پکڑ دھکڑ سے دیا، جس میں عام شہریوں کی ہلاکتیں، بڑے پیمانے پر آبادیوں کو نذرآتش کرنا اور خواتین کے ساتھ جنسی زیادتیاں شامل تھیں۔

زیادہ تر روہنگیا مسلمانوں نے ہمسایہ ملک بنگلہ دیش کے کیمپوں میں پناہ لے رکھی ہے

برما کی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے دہشت گردی کے خلاف اقدامات کیے جس میں وہ حق بجانب ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG