رسائی کے لنکس

logo-print

’بشر مومن‘: نئی روایات کے دعوے درست ثابت ہوں گے؟


ڈرامے میں چھ کردار ہیں جن کے لباس تیار کرنے والے ڈیزائنز کی تعداد آٹھ ہے۔ یعنی کرداروں سے زیادہ ڈیزائنر! سیریل کے دوران مجموعی طور پر 300 سے زائد ڈریسز استعمال ہوئے ہیں۔

پاکستانی ڈرامہ دنیا بھر میں اپنی ایک الگ پہچان رکھتا ہے۔ خاص کر بھارت میں اسے جو پذیرائی ملتی رہی ہے وہ دوچار برس کی بات نہیں، کئی دہائیوں کا قصہ ہے۔ اس دوران ملکی ڈرامے نے کئی انقلابی موڑ لئے ہیں۔ اور جمعے سے جو ایک نئی ڈرامہ سیریل ”بشر مومن“ شروع ہوئی ہے اس کے بارے میں بھی یہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ یہ ڈرامے کی تاریخ میں ایک اور نیا انقلابی موڑ لانے کا سبب بنے گی۔

’بشر مومن‘ نجی ٹی وی ’جیو‘ اور ایک بڑے پروڈکشن ہاوٴس ’اے اینڈ بی پروڈکشنز‘ کی مشترکہ پیشکش ہے جس کے ڈائریکٹر حالیہ کامیاب فلم ”میں ہوں شاہد آفریدی“ سے شہرت پانے والے سید علی رضا اسامہ ہیں جبکہ ڈرامے کا ایک انتہائی اہم کردار، ایکٹر اور ٹی وی ہوسٹ فیصل قریشی نے اداکیا ہے۔

اسامہ کا دعویٰ ہے کہ "بشرمومن" پاکستانی ڈرامے میں نئے ٹرینڈ سیٹ کرے گا۔ یہ تاریخ کا مہنگا ترین ڈرامہ ہے۔ ان کے بقول ”اس کا مقابلہ ترکی ڈراموں سے کیا جاسکتا ہے"۔

اداکار فیصل نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ اس سیریل کے صرف پروموز اور ٹائٹل سانگ دیکھ کر ہی چار انٹرنیشنل ٹی وی چینلزنے اسے خریدنے کی پیشکش کرڈالی تھی جبکہ ریلیز سے پہلے ہی اسے سوشل میڈیا پر ہزاروں لوگ ’لائیک‘ کرچکے تھے۔ فیصل کا ڈرامے کے حوالے سے ساڑھے چار ہزار ٹوئٹس کئے جانے کا بھی دعویٰ ہے۔

ڈرامے کے بارے میں پہلے یہ بھی کہا جارہا تھا کہ یہ پہلا پاکستانی ڈرامہ ہوگا جو بھارتی چینل سے نشر ہوگا تاہم ابھی تک اس چینل کا نام سامنے نہیں آسکا ہے۔

دلچسپ معلومات
ڈرامے کے حوالے سے چینل کی جانب سے میڈیا کو کچھ دلچسپ معلومات بھی جاری کی گئی ہیں جن کے مطابق ڈرامے میں چھ کردار ہیں جن کے لباس تیار کرنے والے ڈیزائنز کی تعداد آٹھ ہے۔ یعنی کرداروں سے زیادہ ڈیزائنر! سیریل کے دوران مجموعی طور پر 300 سے زائد ڈریسز استعمال ہوئے ہیں۔

ڈرامے کے کل ساڑھے آٹھ سو سینز ہیں جن میں فنکاروں نے پانچ پانچ لاکھ کے سوٹ پہنے ہیں جبکہ فی میل آرٹسٹوں نے کروڑوں روپے کی جیولری استعمال کی ہے۔ اس کے ایک سین کے لئے 5 کروڑ کا ہار بنوایا گیا جبکہ ایک کروڑ کی ایک انگوٹھی بھی تیار کرائی گئی۔

فلم کے کچھ سینز کے لئے ایک خطرناک سانپ ”پائی تھن“ بھی خصوصی طور پر منگوایا گیا۔ ڈائریکٹر نے فنکاروں کا خوف ختم کرنے اور مطلوبہ ایکسپریشنز کے لئے باقاعدہ اس کے ساتھ پریکٹس سیشنز بھی کرائے۔

بشر : انتہائی نفرت آمیز کردار
’بشر مومن‘ کی کہانی کا فوکس ”بشر“ نام کا ہی ایک شخص ہے۔ اس کردار کو فیصل قریشی نے اداکیا ہے۔ وہ بھی اس انداز سے کہ لوگ اس کردار کو دیکھ کر اس سے نفرت کریں گے۔

فیصل قریشی کے بقول ”بشر اینگری ینگ مین ہے جس کا ہر اسٹائل اور انداز نرالا ہے۔ وہ ظالم ہے۔ اس کردار کو دیکھ کر لوگ اس سے انتہائی نفرت کریں گے اور اس کی وجہ بھی جاننا چاہیں گے مگر میں فی الحال اتنا ہی کہوں گا کہ ڈرامہ منفرد اسلوب لئے ہوئے ہے۔“

اسامہ کا کہنا ہے کہ ”بشر مومن“ اپنے موضوع اور معیار کے لحاظ سے اب تک پاکستان میں بننے والی تمام ڈرامہ سیریلز سے مختلف ہو گی۔

”بشر مومن“ تحریر کیا ہے زنجبیل عاصم نے جبکہ ڈرامے کی کاسٹ میں فیصل قریشی کے علاوہ اشنا شاہ، سمیع خان، یاسر مظہر، نعمان اعجاز، صلاح الدین تنیو، شہزاد رضا اور حنا خواجہ بیات شامل ہیں۔

اس میں چار ٹائٹل سانگ ہیں۔ 'جیو انٹرٹینمنٹ ہولڈنگ' کے منیجنگ ڈائریکٹر اور چیف آپریٹنگ آفیسر آصف رضا میر کا کہنا ہے ”بشر مومن ایک میگا بجٹ اور میگا اسٹار سیریل ہے جو اپنے موضوع اور پروڈکشن کے معیار کے لحاظ سے سب کو پیچھے چھوڑ دے گا۔ “

ناظرین کیا کہتے ہیں:
ڈرامے کی پہلی قسط جمعہ 14مارچ کو ریلیز ہوئی تھی اور چونکہ ڈرامے کو ”پکانے کی حد تک“ پروموٹ کرنے میں کوئی کثر نہیں چھوڑی گئی تھی لہذا لوگوں میں بہت تجسس پایا جاتا تھا۔

نارتھ کراچی کی رہائشی ایک خاتون شائستہ اور ان کی بیٹی ارج کا کہنا ہے کہ پہلی قسط دیکھ کر تو ایسا بالکل نہیں لگا کہ ڈرامہ کچھ انفرادیت لئے ہوئے ہے، ہوسکتا ہے آگے چل کر صورتحال کچھ مختلف ہوجائے لیکن ابھی ایسا کچھ نظر نہیں آیا۔

'وائس آف امریکہ' کی جانب سے پوچھے گئے ایک سوال پر ان کا کہنا تھا ”مہنگی ترین سیریلز ہونے کے دعوے ماضی میں بھی ہوچکے ہیں۔ سن 2002ء میں جب چینل نیا نیا شروع ہوا تھا تو رعنا شیخ کی ہدایات میں ایک تاریخی ڈرامہ بنا تھا ” امراوٴ جان“ جس پر 2 کروڑ روپے خرچ کرنے کے دعوے ہوئے تھے لیکن ڈرامہ کوئی خاص تاثر نہیں چھوڑ سکا تھا۔"

"کچھ سالوں بعد ایک اور سیریل ”پارٹیشن ایک سفر“ کے نام سے شروع ہوئی جس پر چار کروڑ روپے صرف ہوئے لیکن وہ بھی فلاپ ثابت ہوا۔ میرا کہنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ بڑی بڑی رقمیں کامیابی کی ضمانت نہیں ہوتیں، اس کا ٹریٹمنٹ اور لوگوں میں اس کی مقبولیت اصل معیار ہے ورنہ معمولی بجٹ رکھنے والی کامیاب سیریلز کی فہرست بہت طویل ہے۔“

ایک اور ٹی وی ناظر ناہید نسیم کا کہنا ہے ”نجی چینلز کے آنے سے اندرون ملک ڈرامے کا اسکوپ مزید بڑھا ہے اور اس کا ثبوت ترکی ڈرامے ہیں جنہیں گھر گھر اور صبح شام دیکھے جانے والے انڈین ڈراموں کی موجودگی کے باوجود ’ویلکم‘ کیا گیا۔ البتہ ترکی ڈراموں نے مقامی ڈراموں کے معیار کو یکدم بڑھانے کا نعرہ بلند کردیا ہے، ایسی صورتحال میں ”بشرمومن “ جیسے مہنگے ڈرامے ”نیاٹرینڈ“ تو بنا ہی سکیں گے۔“
XS
SM
MD
LG