رسائی کے لنکس

logo-print

جارج فلائیڈ کی پیچیدہ زندگی، الم ناک موت


فائل فوٹو

آج جارج فلائیڈ پوری دنیا میں انصاف کے حصول کی صدا بن چکا ہے۔ یہ سب اس لئے ممکن ہوا کیونکہ گزشتہ ماہ سڑک پر جاتے ایک راہگیر نے جارج فلائیڈ کے آخری لمحات کی ویڈیو بنائی جو دنیا میں وائرل ہو گئی۔ مگر اس سے بہت برس پہلے فلائیڈ نے کیمرے پر آ کر کچھ بات کی تھی۔

کیمرے سے دیکھا گیا یہ منظر چھ فٹ سات انچ قد کے فلائیڈ کی شخصیت سے پُر ہو گیا تھا۔ اس ویڈیو میں فلائیڈ اپنے آس پاس کے نوجوانوں سے بات کر رہا تھا، جو اس کی بات توجہ سے سنتے تھے۔

ویڈیو میں وہ کہتے ہیں کہ ''میں کسی سے بہتر نہیں ہوں۔ مجھ میں اپنی کمیاں بیشیاں رہی ہیں۔ لیکن، یہ جو شوٹنگز، یعنی ایک دوسرے پر گولیاں چلائی جاتی ہیں، یہ سب کچھ غلط ہے۔ مجھے اس سے غرض نہیں کہ آپ کس محلے سے ہیں اور آپ اس وقت کہاں کھڑے ہیں۔ میں آپ سے پیار کرتا ہوں اور خدا بھی آپ سے محبت کرتا ہے۔ برائے مہربانی، بندوق کا سہارا چھوڑ دیں''۔

اُس وقت فلائیڈ کو نوجوان احترام کی نگاہ سے دیکھتے تھے، کیونکہ وہ زندگی کی غیر معمولی تو نہیں مگر تلخ حقیقتوں سے گزر چکا تھا۔ اس وقت اُسے وہ بلند مقام اور درجہ نہیں ملا تھا جو موت نے اُسے دیا۔ اس کی موت کے بعد، لوگوں نے اسے انصاف اور پولیس کے نظام پر نظرثانی کی ایک عالمی علامت کے طور پر گلے لگایا۔

تاہم، اس جہانِ فانی پر گزارے 46 برسوں میں اسے کئی تلخ تجربات سے گزرنا پڑا، جن کی فلائیڈ نے خود بھی تصدیق کی کہ وہ تجربات بہت بھرپور اور بہت ہی پیچیدہ تھے۔

کسی وقت فلائیڈ کھیل کی دنیا کا ایک ابھرتا ہوا ستارہ تھا اور اس کے دل میں پیشہ ور کھلاڑی بننے کا خواب تھا اور اسی قابلیت کی بنا پر اسے وظیفہ بھی ملا۔ فلائیڈ مختلف ملازمتیں کرتا رہا، اور پھر پانچ سال کیلئے جیل چلا گیا۔

فلائیڈ کا ایک دوست اور ریپر، رونی لِلارڈ کہتا ہے کہ فلائیڈ نے کچھ غلطیاں کیں جس کی قیمت اسے اپنی زندگی کےچند سال جیل میں گزارنے کی صورت میں ادا کرنا پڑیں۔ پھر جب وہ جیل سے باہر نکلا تو، بقول رونی، ''خدا نے اس کے دل پر گہرا اثر چھوڑا تھا''۔

فلائیڈ شمالی کیرولائینا میں پیدا ہوا۔ مگر اس کی ماں کو ہی اس کی کفالت کرنا پڑی، اور جب وہ دو برس کا ہوا تو فاوئیڈ کی ماں اپنے بچوں کو لیکر ریاست ٹیکساس کے شہر ہیوسٹن آگئیں تاکہ کوئی نوکری کر سکیں۔ ہیوسٹن میں وہ کَنی ہومز میں رہنے لگے۔ یہ غریب ترین سیاہ فام لوگوں کا پانچ سو اپارٹمنٹ پر مشتمل علاقہ تھا۔ لوگ اس علاقے کو دی برِکس کے نام سے بھی جانتے ہیں۔

یورا ہال اسی علاقے میں پلی بڑھیں اور وہ فلائیڈ کی ہمسایہ تھیں۔ وہ کہتی ہیں کہ تھرڈ وارڈ بھی غریب سیاہ فاموں کا ہی علاقہ تھا۔ لیکن ستم یہ کہ وہاں کے بچے بھی یہاں کے بچوں کو اپنے سے نیچے سمجھتے تھے۔ فلائیڈ اور دوسرے بچوں نے اس پر ایک گانا بھی بنایا تھا۔

لارسینیا فلائیڈ کو اپنےبچے سے بہت امیدیں وابستہ تھیں۔ سکول کی دوسری جماعت میں فلائیڈ نے لکھا تھا کہ اس کا خواب امریکہ کی سپریم کورٹ کا جج بننا ہے۔

ایک دیرینہ دوست، ٹریوِس کا کہنا ہے کہ فلائیڈ کی ماں کا خیال تھا کہ فلائیڈ اُنہیں غربت کی زندگی سے نکال لے گا۔

جیک یٹس ہائی سکول میں فلائیڈ فٹ بال کا ایک روشن ستارہ تھا۔ اس کی ٹیم سن1992ء کی ریاستی چیمپئن شپ میں فائنل کھیلی تھی۔ شروانز ولیمز بھی فلائیڈ کے ساتھ اس ٹیم میں شامل تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ ایک مختلف کھلاڑی تھا۔ ہم سب اُسے 'بِگ فرینڈلی' کہا کرتے تھے۔

فلائیڈ کی فٹ بال ٹیم کے کوچ، مورس میک گوان کہتے ہیں کہ اگر آپ اسے کچھ کہیں تو وہ اپنا سر نیچے کر لیتا تھا۔ وہ کبھی ایسا ظاہر نہیں کرتا تھا کہ وہ لڑنا چاہتا ہے۔

فلائیڈ نے باسکٹ بال کے میدان میں اپنے کھیل، لمبے قد اور طاقت کی وجہ سے یونیورسٹی آف ہیوسٹن کے سابق اسسٹنٹ کوچ جارج والکر کی توجہ حاصل کر لی۔ یہ بعد میں ساؤتھ فلوریڈا سٹیٹ کالج بن گیا۔ یہ درس گاہ اس کے گھر سے سترہ گھنٹے کی ڈرائیو پر تھی۔ تاہم، فلائیڈ کی ماں اور اس کی ہائی سکول کی انتظامیہ نے اسے وہاں جانے پر قائل کیا۔

واکر نے بتایا کہ وہ چاہتے تھے کہ فلائیڈ اپنے علاقے سے نکل کر زندگی میں کچھ کرے اور کچھ بنے۔

ایون پارک فلوریڈا میں، فلائیڈ اور اس کے ہیوسٹن سے آئے دوسرے کھلاڑی اپنے دراز قد اور متاثر کن لب و لہجے کے باعث جلد پہچانے جانے لگے۔ یہاں یہ سب ایک ڈورمِٹری میں رہتے تھے۔ فلائیڈ کے ساتھی طالب علم اور دوست رابرٹ کالڈ ویل کا کہنا ہے کہ وہ اکثر مجھے ہیوسٹن کے تھرڈ وارڈ کے بارے میں بتاتا تھا۔ وہاں زندگی کتنی مشکل ہے۔ لیکن وہ اس جگہ سے پیار کرتا تھا۔

ایون پارک میں دو سال گزارنے کے بعد، فلائیڈ نے ایک برس تک ٹیکساس کی اے اینڈ ایم یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی۔ بعد میں وہ اپنی ماں کے اپارٹمنٹ میں واپس آ گیا اور کبھی تعمیرات اور کبھی سیکیورٹی کی ملازمت کرتا رہا۔

فلائیڈ کی ماں، لارسینیا فلائیڈ پورے محلے میں 'مس سِسی' کے نام سے جانی جاتی تھیں۔ وہ اپنے بیٹے کے بچپن کے دوستوں کا استقبال کرتیں اور جب کبھی زندگی میں دباؤ آتا تو انہیں اپنے گھر میں رہنے دیتیں۔ ایک دفعہ جب ان کو ہمسائی کو منشیات دینے کے الزام پر جیل ہوئی، تو لارسینیا نے اس کے کم سن بچے، کال وین کو اپنے ہاں رکھ لیا اور ڈھائی سال تک جارج نے اس کے بڑے بھائی کے طور پر کردار نبھایا۔

کال کہتا ہے کہ ہم اس کی جرسیاں چرا کر پہن لیتے اور سارا دن گھر میں گھومتے رہتے، بلکہ باہر بھی چلے جاتے تھے۔ یہ جرسیاں ہمارے ٹخنوں تک آتی تھیں، کیونکہ وہ اتنے دراز قد کا تھا۔ ہم بلکل چھوٹے۔ کال ویئن اب ایک جانا پہچانا ریپر ہے۔ کال کہتا ہے کہ فلائیڈ نے اُن کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ موسیقی کے میدان میں آگے بڑھے۔ کال کا کہنا ہے کہ جارج فلائیڈ ان کیلئے 'سپر ہیرو' تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG