رسائی کے لنکس

logo-print

سال 2016 کا شاندار استقبال، تشدد میں کمی کی توقعات


باوجود اِس انتباہ کے کہ نئے سال کی خوشی کی تقریبات میں دہشت گردی کا خطرہ ہو سکتا ہے، اِس موقعے پر تمام ممالک کے مرکزی مقامات پر احتیاطی تدابیر کے طور پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے اور خوشی کی تقریبات منعقد ہوئیں

دنیا بھر میں سالِ نو کا مثالی خیرمقدم کیا گیا، اِن توقعات کے ساتھ کہ 2016ء کے دوران معاشی صورت حال بہتر ہوگی اور شدت پسندی کا زور ٹوٹے گا۔

باوجود اِس انتباہ کے کہ نئے سال کی خوشی کی تقریبات میں دہشت گردی کا خطرہ ہو سکتا ہے، اِس موقعے پر تمام ممالک کے مرکزی مقامات پر احتیاطی تدابیر کے طور پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے اور خوشی کی تقریبات منعقد ہوئیں۔ نیو یارک کی تقریبات سے لے کر ہر مقام پر سکیورٹی کے ٹھوس انتظامات دیکھنے میں آئے اور یہ خوشی کا موقعہ بغیر کسی پریشانی کے خیر و خوبی سے منایا گیا۔
میونخ میں، جمعے کے روز ریلوے کی آمد و رفت اپنے مقررہ اوقات پر ہوئی۔ جنوبی جرمنی میں شہر میں دہشت گردی کا انتباہی حکم نامہ واپس لیا گیا، جس سے قبل نئے سال کے موقعے پر داعش کے شدت پسند گروہ کی جانب سے خودکش حملے کے انتباہ پر چوکنہ رہتے ہوئے، احتیاط کے طور پر دو ریلوے اسٹیشنوں سے مسافروں کو محفوظ مقامات پر پہنچایا گیا۔

ریاست بواریہ کے دارلحکومت میں نصف شب سالِ نو کی تقریبات شروع ہوکر پُرامن طور پر مکمل ہوئیں۔ ریاست کے وزیر داخلہ، جوشم ہرمن نے بتایا ہے کہ اب کسی دہشت گرد حملے کا ’آج یا کل‘ کوئی واضح امکان باقی نہیں رہا۔ اس کے باوجود، اُنھوں نے کہا کہ اب بھی یورپ میں دہشت گردی کا انتہائی خطرہ لاحق ہے، جس میں جرمنی اور بواریہ کا علاقہ بھی شامل ہے۔

میونخ پولیس نے بتایا ہے کہ جمعرات کی شام اہل کاروں نے احتیاطی تدابیر اپنانے کے احکامات جاری کیے، جس کی بنیاد ’بہت ہی ٹھوس اطلاعات‘ تھیں کہ میونخ میں نئے سال کی تقریبات مکمل ہونے پر نصف شب شہر کے ریلوے اسٹیشنوں پر خودکش حملے ہو سکتے ہیں۔

ہرمن نے کہا کہ اس خفیہ اطلاع میں بتایا گیا تھا کہ اس منصوبہ سازی میں داعش کے شدت پسند گروہ کے سات ارکان ملوث تھے۔

اس سے قبل موصولہ اطلاع کے مطابق، جمعرات کو پولیس نے مرکزی اور شہر کے قریب واقع ایک ریلوے اسٹیشن کو لوگوں سے خالی کروا کر عارضی طور پر بند کر دیا تھا۔ جمعہ کو میونخ پولیس نے ٹوئٹر پر بتایا کہ "اسٹیشنز اب کھل گئے ہیں، لیکن صورتحال اب بھی سنگین ہے۔"

جرمنی کی خبر رساں ایجنسی "ڈی پی اے" نے پولیس کے سربراہ ہوبرٹس آندرے کے حوالے سے بتایا کہ جرمن حکام سے ایک غیر ملکی ایجنسی نے مخبری کی کہ داعش نے پانچ سے سات خودکش حملہ آوروں کے ذریعے کارروائی کا منصوبہ بنایا تھا۔

پولیس کے ترجمان وارنر کراؤس نے امریکی خبر رساں ایجنسی "ایسوسی ایٹڈ پریس" کو بتایا کہ "صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد ہم نے ریلوے اسٹیشنز سے لوگوں کو باہر نکالنا شروع کیا اور (سال نو کی تقریب میں شرکت کے شوقین افراد سے) سے کہا کہ وہ بھیڑ والی جگہوں سے دور رہیں۔"

دہشت گردی کے اس خطرے کا انتباہ جمعرات کو نصف شب سال نو کی تقریبات شروع ہونے سے چند گھنٹے پہلے ہی جاری کیا گیا تھا۔

لیکن پولیس کے انتباہ کے باوجود میونخ کی سڑکوں پر لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے نئے سال کو خوش آمدید کہنے کے لیے خوب ہلہ گلہ کیا اور آتشبازی کی۔

ڈی پی اے کے مطابق ریلوے اسٹیشنز کے بند ہونے سے آمدو رفت کے لیے لوگوں کو مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

XS
SM
MD
LG