رسائی کے لنکس

logo-print

'کچھ پانا ہے تو لڑنا ہوگا، کامیابی تحفے میں نہیں ملتی'


زینہ نصر جرمنی کی ایسی خاتون باکسر ہیں جو اسکارف پہن کر رنگ میں اترتی ہیں۔ مقابلوں کے دوران وہ ایسا لباس زیب تن کرتی ہیں جو انہیں مکمل طور پر ڈھانپے رکھتا ہے۔

زینہ نے جرمنی کے لیے باکسنگ میں بہت سے اعزازت حاصل کیے ہیں تاہم اسکارف پہن کر رنگ میں اترنے کی اجازت کے لیے انہیں کٹھن مراحل سے گزرنا پڑا۔

جرمنی میں حجاب یا اسکارف پہننا مذہبی علامات میں شمار ہوتا ہے۔ جرمنی سمیت یورپ کے مختلف ممالک میں مذہبی علامات نمایاں کرنے کی مختلف طبقات کی جانب سے حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔

باکسنگ کی عالمی تنظیم کے قوانین میں حجاب یا اسکارف پہن کر رنگ میں اترنے کی ممانعت تھی۔

زینہ نصر کی کوششوں سے انٹرنیشنل باکسنگ ایسوسی ایشن کو اپنے قوانین تبدیل کرنا پڑے۔

زینہ نصر کا کہنا ہے کہ رِنگ میں سب سے اہم کھلاڑیوں کی کارکردگی ہوتی ہے یہ ضروری نہیں ہوتا کہ کھلاڑی نے کیا پہن رکھا ہے۔

زینہ نصر کہتی ہیں ان کی کوششوں سے رواں سال فروری میں انٹرنیشنل باکسنگ ایسوسی ایشن نے مسلمان خواتین باکسرز کے لیے قوانین تبدیل کیے۔

ان کے بقول انہیں حجاب یا اپنے جسم کو ڈھانپ کر مقابلوں میں حصہ لینے کی اجازت مل گئی ہے۔

زینہ کا آبائی ملک لبنان ہے تاہم اب وہ برلن میں رہائش پذیر ہیں۔

زینہ کی عمر صرف 21 سال ہے جب کہ وہ جرمن امیچر فیدرویٹ چیمپئن ہیں۔

وہ اولمپک مقابلوں میں جرمنی کی نمائندگی کرنے کی بھی خواہاں ہیں۔

زینہ نے فرانسیسی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ اگلے سال ٹوکیو اولمپکس اور 2024 میں پیرس گیمز پر ان کی نظریں مرکوز ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ رواں سال جرمنی کی جانب سے یورپی انڈر 22 کے لیے انہیں منتخب کیا گیا تاہم ان کا ڈریس کوڈ آڑے آ گیا جس کے بعد انہوں نے ڈریس کوڈ میں تبدیلی کے لیے جدوجہد شروع کی۔

57 کلو گرام کٹیگری میں حصہ لینے والی زینہ اب تک 20 میں سے 18 مقابلے جیت چکی ہیں۔

زینہ کہتی ہیں کہ کامیابی کبھی بھی تحفے میں نہیں ملتی اسے پانے کے لیے مشکل راستوں سے گزرنا پڑتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG