رسائی کے لنکس

logo-print

جرمنی آنے والے افغانوں کو وطن واپس بھیجا جائے گا: مرخیل


مرخیل نے کہا ہے کہ بہتر زندگی کی تلاش میں جرمنی آنے والے مہاجرین کو سیاسی پناہ یا مستقل رہائش دینے کی کوئی خاص وجہ نہیں۔ اُنھوں نے مزید کہا کہ ایسے معاملے میں ملک بدری کے احکامات دیے جائیں گے

جرمن چانسلر آنگلہ مرخیل کا کہنا ہے کہ بہتر معاشی حالات کی تلاش میں جرمنی آنے والے افغانوں کو افغانستان واپس بھجوا دیا جائے گا۔

اُنھوں نے یہ بات دورے پر آئے ہوئے افغان صدر اشرف غنی کے ہمراہ برلن میں مشترکہ اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

مرخیل نے کہا کہ جرمنی افغانوں کے ساتھ انسانی ہمدردی کی ذمہ داری کو پورا کرے گا، جنھیں ’شدید‘ خطرہ لاحق ہے، کیونکہ اُنھوں نے بیرونی افواج کے لیے کام کیا، مثلاً جرمن فوج۔

مرخیل نے کہا کہ بہتر زندگی کی تلاش میں جرمنی آنے والے مہاجرین کو سیاسی پناہ یا مستقل رہائش دینے کی کوئی خاص وجہ نہیں۔ اُنھوں نے مزید کہا کہ ایسے معاملے میں ملک بدری کے احکامات دیے جائیں گے۔

آنگلہ مرخیل کے بقول، ’تاہم، جہاں تک مہاجرین کا تعلق ہے وہ بہتر زندگی کی توقعات لے کر آتے ہیں، اور مجھے پتا ہے کہ بہت سوں کے لیے یہ امید بہت اہمیت رکھتی ہے۔ یہ جواز فراہم نہیں کرتی کہ اُنھیں یہاں سیاسی پناہ یا مستقل رہائش کا درجہ دیا جائے‘۔

اُنھوں نے کہا کہ ’ضرورت اِس بات کی ہے کہ اپنے ملک میں رہنے والے تین کروڑ 50 لاکھ افغانوں کی بہتری کا سوچا جائے، اور ملک کو بہتر بنایا جائے۔ یہی سبب ہے کہ ہم ایسے کیسز میں لوگوں کو افغانستان واپس روانہ کر دیں گے۔جرمنی اس بات کی کوشش کر رہا ہے کہ افغانستان سے تعلق رکھنے والے سیاسی پناہ گزینوں کی تعداد میں کمی لائی جائے‘۔

مرخیل اور افغان صدر اشرف غنی نے اُس طریقہٴ کار پر غور کیا جس میں جرمنی افغانستان کی مدد کرسکے اور جرمنی آنے والے افغان مہاجرین کی آمد میں کمی لا سکیں۔

غنی نے کہا کہ بہت سے افغانیوں کے ذہن میں جرمنی میں قیام کے حوالے سے غلط تصورات موجود ہیں اور وہ اکثر ’راستے ہی میں بہت کچھ لٹا دیتے ہیں‘۔

مرخیل نے کہا کہ جرمنی افغانوں کے لیے اُنہی کے ملک میں ’محفوظ علاقے‘ قائم کرنے میں معاونت کی خواہش رکھتا ہے۔ لیکن، مہاجرین کی آمد و رفت اور غیر قانونی ہجرت کے سلسلے میں افغان سکیورٹی افواج کو مضبوط بنانے کی بھی ضرورت ہے‘۔

مشرق وسطیٰ، افریقہ اور ایشیا سے تعلق رکھنے والے لوگ لڑائی اور غربت کے نتیجے میں، اپنے ملک چھوڑنے پر مجبور ہیں؛ جہاں سے اس سال تقریباً 800000 افراد یورپ آچکے ہیں، جو جنگ عظیم دوئم کے بعد سے ہجرت کا شدید ترین بحران ہے۔

XS
SM
MD
LG