رسائی کے لنکس

logo-print

جرمنی: ٹرین میں حملہ کرنے والے سے داعش کا پرچم برآمد


بویریا کے وزیر داخلہ  یواخیم ہرمان نے حملہ آور کی شناخت ایک 17 سالہ افغان شہری کے طور پر کی ہے جو جرمنی کے جنوبی قصبے اوخسینفرٹ میں مقیم تھا۔

جرمن کے خبر رساں اداروں کے مطابق ایک ٹرین میں کلہاڑی سے حملہ کر کے متعدد مسافروں کو زخمی کرنے والے شخص کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا ہے۔

بویریا کے وزیر داخلہ یواخیم ہرمان نے حملہ آور کی شناخت ایک 17 سالہ افغان شہری کے طور پر کی ہے جو جرمنی کے جنوبی قصبے اوخسینفرٹ میں مقیم تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیس کو حملہ آور کے سامان میں سے شدت پسند گروپ داعش کے پرچم کی ہاتھ سے بنائی گئی تصویر بھی ملی ہے۔

شدت پسند گروپ داعش سے وابستہ ایک خبر رساں ایجنسی "عماق" نے حملہ آور کے سامان سے پرچم برآمد ہونے کی خبر کے سامنے آتے ہے اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی۔

بیان کے مطابق حملہ آور "داعش کا ایک رکن تھا" اور اس نے گروپ کی طرف سے مغربی ملکوں میں حملے کرنے کے مطالبات کے بعد اس کارروائی کا منصوبہ بنایا۔

داعش حالیہ مہینوں میں دنیا کے مختلف ملکوں میں ہونے والے ایسے حملوں کی ذمہ داری قبول کر چکا ہے جس میں اس کا نام لیا گیا لیکن ان حملہ آوروں کے داعش سے منسلک ہونے کے بارے میں تحقیقات جاری ہیں۔

قبل ازیں پولیس کے حوالے سے سامنے والی اطلاعات کے مطابق حملہ آور نے مقامی وقت کے مطابق تقریباً نو بجے رات کو ایک "کند کاٹنے والے" ہتھیار سے ایک مقامی ٹرین میں حملہ کیا جو عینی شاہدین کے مطابق کلہاڑی یا چاقو سے مسلح تھا۔

بتایا گیا ہے کہ حملہ آور نے جب موقع سے فرار ہونے کی کوشش کی تو اسے ہلاک کر دیا گیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں متعدد افراد زخمی ہوئے جن میں ایک چینی خاندان بھی شامل ہے اور دو زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔

حکام نے اس حملے کے محرک کے بارے میں کسی قسم کی قیاس آرائی نہیں کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اوخسینفرٹ اور ورزبرگ کے درمیان ٹرین کا روٹ بند کر دیا گیا ہے۔

XS
SM
MD
LG