رسائی کے لنکس

logo-print

جاسوسی کے انکشافات: اقوام متحدہ میں قرار داد پیش کرنے کی تیاری


جرمنی اور برازیل جو مجوزہ قرار داد تیار کر رہے ہیں اس میں شہری اور سیاسی حقوق سے متعلق بین الاقوامی معاہدے کا دائرہ کار انٹرنیٹ پر ہونے والی سرگرمیوں تک بڑھانے کا مطالبہ کیا جائے گا، تاہم اس میں امریکہ کا ذکر نہیں کیا جائے گا۔

جرمنی اور برازیل نے کہا ہے کہ الیکٹرانک رابطوں سے متعلق لوگوں کی پرائیویسی کو یقینی بنانے کے لیے وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پیش کرنے کے لیے قرار داد کا مسودہ تیار کر رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے متعلقہ سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ قرار داد پر تبادلہ خیال کے لیے جرمنی اور برازیل کے سفارت کاروں نے یورپ سے تعلق رکھنے والے اپنے ہم منصبوں سے جمعہ کو ملاقات کی۔

یہ اقدام اُن اطلاعات کے منظر عام پر آنے کے بعد کیا جا رہا ہے جن میں امریکہ پر عالمی رہنماؤں اور دیگر افراد کی جاسوسی کا الزام عائد کیا گیا۔

مجوزہ قرار داد شہری اور سیاسی حقوق سے متعلق بین الاقوامی معاہدے کا دائرہ کار انٹرنیٹ پر ہونے والی سرگرمیوں تک بڑھانے کا مطالبہ کرے گی، تاہم اس میں امریکہ کا ذکر نہیں کیا جائے گا۔

امریکہ کی جانب سے چانسلر آنگلا مرخیل کی موبائل فون پر ہونے والی گفتگو کی مبینہ نگرانی پر جرمنی نے ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔

جب کہ برازیل کی صدر جلماہ روسیف نے ان الزامات کے منظرِ عام پر آنے کے بعد گزشتہ ماہ اپنا دورہِ امریکہ منسوخ کر دیا تھا کہ انٹیلی جنس ادارے نیشنل سکیورٹی ایجنسی نے اُن کے دفتر سے ہونے والے پیغامات کے تبادلوں کی نگرانی کی۔

جنرل اسمبلی کی مجوزہ قرار داد پر عمل درآمد کرنا لازمی نہیں ہوگا، مگر اس کو جاسوسی سے متعلق امریکہ کی مبینہ سرگرمیوں کی ناپسندیدگی کا اظہار تصور کیا جائے گا۔

جرمنی کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملک کے خفیہ اداروں کے سربراہان وائٹ ہاؤس اور نیشنل سکیورٹی ایجنسی کے حکام سے ملاقاتوں کے لیے جلد ہی امریکہ کا دورہ کریں گے۔

مزید برآں یورپی یونین کے قانون سازوں کا کہنا ہے کہ وہ بھی مستقبل قریب میں امریکی حکام کے ساتھ جاسوسی سے متعلق الزامات پر تبادلہ خیال کریں گے۔
XS
SM
MD
LG