رسائی کے لنکس

logo-print

جرمنی کو داعش کے خلاف جنگ میں حصہ لینے کی اجازت


جرمن پارلیمان میں حکومت کی قرارداد کی حمایت میں 445 ووٹ آئے جب کہ 146 ارکان نے بین الاقوامی اتحاد کا حصہ بننے کی مخالفت کی۔

جرمنی کی پارلیمان نے حکومت کو شام میں داعش کے خلاف جاری فضائی کارروائیوں میں بین الاقوامی اتحاد کی مدد کرنے کی اجازت دیدی ہے۔

جرمن حکومت نے پارلیمان سے داعش کے خلاف امریکہ کی قیادت میں قائم بین الاقوامی اتحاد کی شام میں جاری فضائی کارروائیوں میں مدد کے لیے اپنے طیارے اور اہلکار علاقے میں بھیجنے کی اجازت مانگی تھی۔

جمعے کو پارلیمان نے بھاری اکثریت سے حکومت کی درخواست منظور کرلی جس کے تحت جرمن حکومت بین الاقوامی اتحادی کے فضائی حملوں میں مدد کے لیے اپنے جاسوس طیارے، ایک بحری جنگی جہاز، فضا میں طیاروں میں ایندھن بھرنے والا ایک جہاز اور 1200 فوجی اہلکار روانہ کرے گی۔

جرمن پارلیمان میں حکومت کی قرارداد کی حمایت میں 445 ووٹ آئے جب کہ 146 ارکان نے بین الاقوامی اتحاد کا حصہ بننے کی مخالفت کی۔

جرمن حکومت کا کہنا ہے کہ داعش کےخلاف اس کا کردار صرف اتحادیوں کی کارروائیوں میں مدد اور اعانت فراہم کرنے تک محدود ہوگا اور جرمن پائلٹ اور طیارے شام میں داعش کےٹھکانوں پر بمباری کے مشن میں حصہ نہیں لیں گے۔

بین الاقوامی اتحاد میں شامل امریکہ، برطانیہ اور فرانس کے علاوہ روس کے جنگی طیارے بھی شام میں داعش کےٹھکانوں پر فضائی حملے کر رہے ہیں۔

گزشتہ ماہ پیرس میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کے بعد فرانس کے صدر فرانسس اولاں نے دیگر یورپی اور عالمی رہنماؤں کے علاوہ جرمن چانسلر اینگلا مرخیل سے بھی داعش کے خلاف جنگ میں مدد کی درخواست کی تھی۔

اس سے قبل بدھ کو برطانوی پارلیمان نے بھی وزیرِاعظم ڈیوڈ کیمرون کی حکومت کو عراق کے ساتھ ساتھ شام میں بھی داعش کے ٹھکانوں پر فضائی حملوں کی اجازت دیدی تھی جس کے چند گھنٹوں بعد ہی برطانیہ کی رائل ایئر فورس نے شام کے مختلف علاقوں میں داعش کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تھا۔

پیرس حملوں کی ذمہ داری داعش کی جانب سے قبول کرنے کے بعد فرانس نے اپنا بحری بیڑہ 'چارلس ڈی گال' شام کے ساحل کےنزدیک تعینات کردیا ہے جس پر موجود فرانسیسی طیارے گزشتہ دو ہفتوں سے شام میں داعش کے ٹھکانوں پر بمباری کر رہے ہیں۔

فرانسیسی صدر اولاں جمعے کو چارلس ڈی گال کا دورہ کرنے والے ہیں جہاں وہ طیارہ بردار جہاز پر تعینات فرانسیسی فوج کے سیکڑوں اہلکاروں اور افسران سے ملاقات کرکے ان کی حوصلہ افزائی کریں گے۔

صدر اولاں نے روس سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ داعش کے خلاف اپنی علیحدہ کارروائیوں کے بجائے شدت پسند تنظیم کو ختم کرنے کے لیے بین الاقوامی اتحاد کے ساتھ مل کر کام کرے۔

XS
SM
MD
LG