رسائی کے لنکس

یوسف رضا گیلانی کا دورہ چین امریکی ماہرین کی نظر میں


یوسف رضا گیلانی کا دورہ چین امریکی ماہرین کی نظر میں

وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے حالیہ دورہ چین کو امریکہ میں بہت دلچسپی سے دیکھا گیا۔ یہ سوال بھی اٹھا کہ کیا پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کی موجودہ صورت حال کو مد نظر رکھتے ہوئے اب پاکستان مزید فوجی اور غیر فوجی امداد کے لیے چین کی طرف دیکھ رہا ہے؟

وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کا دورہ چین ایبٹ آباد میں امریکی فوجی آپریشن سے بہت پہلے طے کیا جا چکا تھا۔ لیکن واشنگٹن کے تحقیقی ادارے وڈروولسن سینٹرکے ایک ماہر رابرٹ ہیتھوے کہتے ہیں کہ پاکستان امریکہ کے تعلقات کی موجودہ صورت حال کے پیش نظر وزیر اعظم کا چین کا یہ دورہ پاکستان کے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کو اس دورے سے بہت حوصلہ ملا ہے، کیونکہ پاکستان اور امریکہ کے موجودہ تعلقات میں تناؤ برقرار ہے۔ میرا خیال ہے کہ امریکہ اور پاکستان کے موجودہ مسائل سے توجہ ہٹانے کا یہ پاکستان کےلیے بہت اطمینان بخش موقع تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم گیلانی کے اس دورے پر واشنگٹن کی خصوصی توجہ کی ایک وجہ تو امریکہ کی پاکستان میں دلچسپی ہے، اور دوسرے امریکہ اور پاکستان کے بہت سے باہمی مفادات ۔ رابرٹ ہیتھوے کہتے ہیں کہ پاکستان سے تعلقات کے حوالے سے چین اور امریکہ کا کوئی مقابلہ نہیں۔

واشنگٹن کے تھنک ٹینک ہڈسن انسٹی کے رابرٹ وائٹز کے مطابق امریکہ اور چین کے بھی بہت سے مشترکہ مفادات ہیں، جن میں پاکستان کا استحکام بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چین اس سلسلے میں بےحد اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

چین پاکستان میں مختلف تعمیراتی منصوبوں میں شامل رہا ہے۔ اس نے چشمہ میں جوہری توانائی کی پیداوار کے لیے ایک پلانٹ کی تعمیر میں بھی پاکستان کی مدد کی۔

رابرٹ واٹز کہتے ہیں کہ سرکاری طور پر تو وہ کہتے ہیں کہ پاکستان کو ہم نے یہ امداد nuclear suppliers group میں شامل ہونے سے پہلے فراہم کی تھی۔ اس لیے اس پر کوئی پابندی نہیں۔ لیکن غیر سرکاری طور پر وہ کہ رہے ہیں کہ جب تک امریکہ بھارت کی مدد کرے گا، ہم پاکستان کی مدد کریں گے۔ اس سے علاقائی تناؤمیں اضافہ ہوگا ۔

لیکن یہ کہتے ہیں کہ چین پاکستان کو پرانی جوہری ٹکنالوجی دے رہا ہے۔ جو امریکہ کے لیے حفاظت کے نقطہ نظر سے باعث فکر ہے۔ پاکستان اور چین کی بعض دوسرے شعبوں میں شراکت داری بھی امریکہ کے لیے باعث تشویش بن رہی ہے۔

چین سے جو دفاعی سازو سامان ملتا ہے اس کی کوالٹی امریکی سامان کے مقابلے میں کم تر ہے۔ چین نے پاکستان کو ٹکنالوجی ٹرانسفر بھی کی ہے تاکہ وہ اس کی پروڈکشن میں خود کفیل ہو جائے ۔ لیکن بات ہو رہی تھی جے ایف تھنڈر لڑاکا طیاروں کی جو پاکستان 50کی تعداد میں خرید رہاہے ، تو یہ جہاز دنیا کے بہترین جہازوں میں شامل نہیں ہیں۔

امریکہ اور چین باہمی تجارت بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اور بعض ماہرین کو توقع ہے کہ امریکہ کے ساتھ چین کے تجارتی تعلقات پاک چین تعلقات کو بھی متاثر کر سکتےہیں۔ لیکن واشنگٹن کے تھنک ٹینک اٹلانٹک کونسل کے شجاع نواز اس سے متفق نہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ میں نہیں سمجھتا کہ چین اور امریکہ کے جو تجارتی تعلقات ہیں ان کا پاکستان پر کوئی فرق پڑے گا۔ اور نہ ہی بھارت کے ساتھ اس کے تجارتی تعلقات پر کوئی فرق پڑے گا، کیونکہ اگر آپ دیکھئے تو ہندوستان اور چین کی باہمی تجارت 65 ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔۔ اور اگر سروسز کا شعبہ نکال دیں، تو ہندوستان کا سب سے بڑا ٹریڈ پارٹنر چین ہو گا۔

شجاع نواز کہتے ہیں کہ افغانستان سے امریکی فوج کی واپسی کے بعد چین نہ صرف پاکستان ، بلکہ افغانستان کے ساتھ بھی تجارتی تعلقات قائم رکھے گا، گو ممکن ہے کہ چین کے عزائم امریکہ کے عزائم سے کچھ مختلف ہوں۔

XS
SM
MD
LG