رسائی کے لنکس

logo-print

گلگت بلتستان انتخابات: کوئی جماعت واضح اکثریت حاصل نہ کرسکی، غیر سرکاری نتائج


مختلف علاقوں میں ووٹوں کی گنتی اور نتائج کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔

پاکستان کے زیرِ انتظام علاقے گلگت بلتستان اسمبلی کی 23 عام نشستوں پر اتوار کو ہونے والی پولنگ کے بعد ووٹوں کی گنتی اور نتائج کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج کے مطابق اب تک کسی جماعت نے واضح اکثریت حاصل نہیں کی۔

گلگت بلتستان کے کئی اضلاع سے نتائج موصول ہو رہے ہیں جب کہ بعض علاقوں میں پولنگ اسٹیشنز دور دراز علاقوں میں ہونے کی وجہ سے نتائج کی آمد میں تاخیر ہو رہی ہے۔ ​

وفاق میں حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف اور حزبِ اختلاف کی جماعتوں پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) اور دیگر چھوٹی بڑی جماعتیں میدان میں ہیں۔

اب تک موصول ہونے والے غیر سرکاری و غیر حتمی نتائج کے مطابق 23 میں سے چھ نشستوں پر تحریک انصاف اور چھ نشتوں پر آزاد امیدواروں کو برتری حاصل ہے۔

پیپلز پارٹی کو چار اور مسلم لیگ (ن) کو دو نشستوں پر برتری حاصل ہے۔

گلگت بلتستان کے اضلاع گلگت، غذر، ہنزہ، اسکردو، کھرمنگ، شگر، گانچھے، دیامیر اور استور سمیت دیگر اضلاع میں اتوار کو ووٹرز نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔

انتخابات کے لیے سیکیورٹی کے بھی انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ مجموعی طور پر 13 ہزار سے زائد سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے۔

اطلاعات کے مطابق گلگت بلتستان کے کچھ علاقوں میں برف باری بھی ہوئی ہے تاہم کئی پولنگ اسٹیشنز میں ووٹرز قطار لگائے دکھائی دیے۔

انتظامیہ کے مطابق کرونا وبا کے باعث ووٹرز کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ چھ فٹ کا فاصلہ رکھیں۔

انتخابات کے لیے چار خواتین سمیت 330 اُمیدواروں کے مابین مقابلہ ہے۔

گلگت بلتستان اسمبلی کی 23 نشستوں پر پولنگ ہوئی۔
گلگت بلتستان اسمبلی کی 23 نشستوں پر پولنگ ہوئی۔

گلگت بلتستان میں رجسٹرڈ ووٹرز کی مجموعی تعداد سات لاکھ 40 ہزار سے زائد ہے جن کے لیے مجموعی طور پر 1260 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق انتخابات میں اصل مقابلہ تحریک انصاف اور حزبِ اختلاف کی بڑی جماعتوں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے اُمیدواروں کے مابین ہے۔

سیاسی ماہرین کہتے ہیں کہ حالیہ سیاسی تناؤ کے تناظر میں یہ انتخابات خصوصی اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔ تمام فریق انتخابات میں اپنی کامیابی کے دعوے کر رہے ہیں۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کے علاوہ حکومتی جماعت کے رہنماؤں نے بھی یہاں بھرپور انتخابی مہم چلائی تھی۔

وزیرِ اعظم عمران خان نے بھی انتخابی مہم کے دوران ایک جلسے سے خطاب کیا اور کہا تھا کہ بہت جلد اس علاقے کو صوبے کا درجہ دے دیا جائے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG