رسائی کے لنکس

logo-print

رومانیہ: 15 سالہ مغوی لڑکی کے قتل پر احتجاج، حکومت کے استعفے کا مطالبہ


فائل فوٹو

رومانیہ میں 15 سالہ لڑکی کے اغوا کے بعد قتل پر دارالحکومت بخارسٹ میں احتجاج میں حکومت سےمستعفی ہونے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق مغوی لڑکی کے بار بار مطلع کرنے کے باوجود پولیس کی عدم کارروائی پر حکومت نے اس کے چیف کو برطرف کر دیا ہے۔

واضح رہے کہ قتل ہونے والی لڑکی کو الیگزنڈرا کے نام سے شناخت کیا گیا ہے۔ جس کو بدھ کے روز اغوا کیا گیا تھا۔

پولیس کے مطابق 15 سالہ لڑکی کو اس وقت اغوا کیا گیا تھا جب وہ جنوبی رومانیہ میں واقع دوبروسیوینی میں اپنے گھر جا رہی تھی۔

الیگزنڈرا نے کئی گھنٹے بعد جمعرات کو اغوا کار کے موبائل فون سے پولیس کو ایمرجنسی نمبر 112 پر رابطہ کیا۔ اس نے تین بار کال کرکے پولیس کو اپنے اغوا اور کار ڈرائیور کے حوالے سے تفصیلات بتانے کی کوشش کی۔ تاہم پولیس کی جانب سے اس پر فوری کارروائی نہیں کی گئی۔

لڑکی کے قتل کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد وزیر داخلہ نیکولائے موگا نے پولیس چیف یوان بُدا کی برطرف کرنے کا اعلان کیا۔

برطرف کیے جانے سے قبل پولیس چیف یوان بودا نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ لڑکی کے فون پر آخری الفاظ تھے، 'وہ آ رہا ہے، وہ آ رہا ہے'۔

پولیس نے لڑکی کی فون کال کے 12 گھنٹے بعد تین عمارتوں کی تلاشی لی جبکہ مبینہ ملزم کے گھر میں داخل ہونے کا اجازت نامہ 19 گھنٹے بعد حاصل کیا۔ ہنگامی حالات میں اجازت نامہ حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی تاہم پولیس نے اس معاملے میں بھی تاخیر کی۔

پولیس نے ایک 65 سالہ شخص کو حراست میں لیا ہے تاہم اس شخص کا کہنا ہے کہ وہ بے قصور ہے۔ وہ اس لڑکی سے کبھی نہیں ملا۔

حکام کا کہنا ہے کہ اگر مذکورہ شخص بے گناہ ہے تو لڑکی نے اس کے موبائل فون سے پولیس کو کال کس طرح کی۔

واضح رہے کہ پولیس نے اس شخص کے گھر کی تلاشی کے دوران باغیچے سے لڑکی کی باقیات اور زیورات برآمد کیے تھے۔

دوسری جانب لڑکی کے قتل اور پولیس کی بروقت کارروائی نہ کرنے پر احتجاج کیا گیا ہے۔

احتجاج کرنے والے مظاہرین حکومت سے مستعفی ہونے کے نعرے لگا رہے تھے جبکہ حکام کو نا اہل قرار دے رہے تھے۔

مظاہرین نے وزارت داخلہ کی عمارت کے باہر مقتول لڑکی کی یاد میں شمعیں روشن اور پھول رکھے گئے۔

احتجاج کرنے والوں کا کہنا تھا کہ حکمران سوشل ڈیموکریٹک پارٹی ملک میں فوجداری انصاف کے قانونی نظام کو کمزور کر رہی ہے۔

مظاہرین میں شامل 55 سالہ کریٹین نن نے سوال اٹھایا کہ پولیس نے کارروائی کرنے میں اتنی تاخیر کیوں کی؟ سب لوگ اس کا جواب چاہتے ہیں۔

دوسری جانب پولیس کا خیال ہے کہ اسی علاقے میں تین ماہ قبل لاپتہ ہونے والی کم عمر لڑکی کو بھی زیر حراست شخص نے قتل کیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG