رسائی کے لنکس

logo-print

کراچی دھماکے میں ہلاکتوں کی تعداد چھ ہوگئی


کراچی میں گزشتہ دو دن کے دوران دہشت گردی کے دو سنگین واقعات ہوچکے ہیں جن سے واضح ہورہا ہے کہ کراچی ایک مرتبہ پھر دہشت گردوں کے نشانے پر ہے ۔

کراچی کے علاقے گزری میں جمعہ کی صبح ہونے والے بم دھماکے میں مرنے والوں کی تعداد 6 ہوگئی ہے جبکہ 25 سے زائد افراد زخمی ہیں۔

دھماکے کے مزید دو زخمی جمعہ کی شام مقامی اسپتال میں دوران علاج زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔

ادھر وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ ”اب بہت ہوگیا، وفاقی حکومت کو چاہیے کہ مذاکرات چھوڑ کر دہشت گردوں کے خلاف سخت کارروائی کرے۔ طالبان کے ساتھ جنگ بندی کی مدت پوری ہو چکی ہے"۔

دو دن میں دو واقعات، چار مہینوں میں چھٹا واقعہ
کراچی میں گزشتہ دو دن کے دوران دہشت گردی کے دو سنگین واقعات ہوچکے ہیں جن سے واضح ہورہا ہے کہ کراچی ایک مرتبہ پھر دہشت گردوں کے نشانے پر ہے۔

طالبان کی جانب سے جنگ بندی واپس لینے کے اعلان کے بعد جمعرات سے اچانک بم دھماکے اور خود کش حملے دوبارہ شروع ہوگئے ہیں۔ ان حملوں میں عام آدمی کے ساتھ ساتھ سیکورٹی فورسز کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

حالات و واقعات کی بنیاد پر نمائندہ 'وی او اے' کی جانب سے جمع کئے گئے اعدادو شمار کے مطابق کراچی میں 9 جنوری سے 25 اپریل تک مجموعی طور پر چھ خود کش حملے اور بم دھماکے ہوچکے ہیں جن میں 33 افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہوئِے ہیں۔

سال 2014ء کے واقعات
سال کا پہلا خود کش حملہ 9 جنوری کو لیاری ایکسپریس وے پر عیسیٰ نگری کے قریب سپرنٹنڈنٹ آف پولیس، سی آئی ڈی، چوہدری اسلم کی کار پر ہوا جس کے نتیجے میں چوہدری اسلم سمیت 4 اہلکار ہلاک اور 10 زخمی ہوئے۔

دوسرا خود کش حملہ 29 جنوری کو نارتھ ناظم آباد میں رینجرزکے ہیڈ کوارٹر پر ہوا جس میں رینجرز کے 2 اہلکار اور دو سیکورٹی گارڈ ہلاک ہوئے جبکہ دو افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق ہوئی۔

تیسرا خود کش حملہ 13 فروری کو رزاق آباد پولیس ٹریننگ سینٹر شاہ لطیف ٹاوٴن میں ہوا جس میں 13 اہلکار ہلاک اور 58 زخمی ہوئے تھے۔

چوتھا خود کش حملہ رینجرز کے قافلہ پر14 فروری کو قیوم آباد کورنگی میں کیا گیاجس میں 1 اہلکار ہلاک اور 4 زخمی ہوئے۔

پانچواں حملہ 24 مئی کو پرانی سبزی منڈی کے قریب ہوا جس میں سابق انسپکٹر شفیق تنولی سمیت 4 افراد ہلاک اور 15 سے زائد افرادزخمی ہوئے۔

چھٹا حملہ جمعہ کو گذری میں ہوا جس میں 6 افراد ہلاک اور 25 سے زائد زخمی ہوگئے۔
XS
SM
MD
LG