رسائی کے لنکس

دنیا کے 52 ملکوں میں غذا کی صورتِ حال پریشان کُن: رپورٹ


رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تنازعات کی صورت حال اور شدید بھوک کا چولی دامن کا ساتھ ہے، اور یوں وسط افریقی جمہوریہ، شاڈ اور زمبابوے میں غذائی کمی لاحق ہے

ایک حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا بھر میں غربت میں کمی لانے کے حوالے سے میں پیش رفت کے حصول کے باوجود، کم از کم 52 ترقی پذیر ملکوں میں افلاس کی سطح ’تشویش ناک‘ اور ’پریشان کُن‘ ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ دنیا بھر کے تقریباً 80 کروڑ افراد اب بھی بھوک کا شکار ہیں۔

یہ بات غذا کی پالیسی کے بارے میں بین الاقوامی تحقیقی مرکز، ’ویٹ ہنگر لائف‘ اور ’کنسرن ورلڈ وائیڈ‘ کی جانب سے پیر کو جاری کردہ ایک رپورٹ میں کہی گئی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تنازعات کی صورت حال اور شدید بھوک کا چولی دامن کا ساتھ ہے، اور یوں وسط افریقی جمہوریہ، شاڈ اور زمبابوے میں غذائی کمی لاحق ہے۔

’ویلٹ ہنگر لائف‘ کے صدر، باربل ڈائکمن کے بقول، ’مسلح تنازعات میں گھرے 80 فی صد سے زیادہ لوگ اپنے ملکوں کے اندر ہی رہتے ہیں۔ یہ وہی لوگ ہیں جو غذا کے عدم دستیابی کا سب سے زیادہ شکار ہیں‘۔

تاہم، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ برعکس اس کے، انگولہ، ایتھیوپیا اور روانڈا میں غذائی کمی کی سطح قدرے کم ہوئی ہے، جہاں 1990 اور 2000کی دہائیوں میں خانہ جنگی درپیش رہی ہے۔

ڈومینک مک سورلی، ’کنسرن ورلڈ وائیڈ‘ کے سربراہ ہیں۔ بقول اُن کے، ’تنازع کے بعد ترقی کی رفتار میں کمی آتی ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ بین الاقوامی برادری تنازع سے گزیر کرے، اور دکھوں کا مداوا اور مسائل کے حل کو سیاسی ترجیح کا معاملہ بنائے‘۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ترقی پذیر ملکوں میں 2000ء سے اب تک، غذائی ابتری کی سطح میں 27 فی صد بہتری آئی ہے۔ سنہ 2000سے اب تک برازیل، کروشیا، پیرو اور ونزویلا اُن ملکوں میں شامل ہیں جہاں بھوک میں کمی واقع ہوئی ہے۔

اس میں کہا گیا ہے کہ تب سے، آفات کا سبب بننے والے قحط ، جن میں 10 لاکھ سے زیادہ افراد لقمہ اجل بن جایا کرتے تھے، اب ختم ہوتے دکھائی دے رہے ہین۔

XS
SM
MD
LG