رسائی کے لنکس

logo-print

آزادئ صحافت ایک دہائی کی نچلی ترین سطح پر: فریڈم ہاؤس


فریڈم ہاؤس نے بتایا ہے کہ مجموعی طور پر دنیا کی صرف 14 فی صد آبادی اُن آزاد ملکوں میں بستی ہے جہاں سیاسی خبریں آزادنہ طور پر جاری ہوتی ہیں، صحافیوں کی حفاظت کی ضمانت دی گئی ہے، میڈیا کے امور میں ریاستی مداخلت نہ ہونے کے برابر ہے اور صحافت کو سخت قانون یا معاشی دباؤ کا سامنا نہیں ہے

پچھلے ایک عشرے سے زائد عرصے کے بعد، گذشتہ سال عالمی آزادی صحافت اپنی نچلی ترین سطح پر تھی۔ یہ بات بدھ کو جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں کہی گئی ہے جسے بین الاقوامی انسانی حقوق پر نگاہ رکھنے والی تنظیم نے ترتیب دیا ہے۔

’فریڈم ہاؤس‘ کی اِس سالانہ جائزہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا بھر سے تعلق رکھنے والے صحافیوں پر مطلق العنان حکومتوں، دہشت گردوں اور کاروباری مفادات رکھنے والے میڈیا مالکان کی جانب سے قدغنیں لگائی گئی ہیں۔

جائزہ رپورٹ میں، تنظیم نے جن 199 ملکوں کو شامل کیا ہے، اُن میں شمالی کوریا، ازبکستان، ترکمانستان، بیلاروس، کیوبا، شام، ایران اور کرائیمیا بدترین ملک قرار پائے ہیں۔ فہرست میں ناروے، سویڈن اور بیلجئم پیش پیش ہیں۔

فریڈم ہاؤس نے بتایا ہے کہ مجموعی طور پر دنیا کی صرف 14 فی صد آبادی اُن آزاد ملکوں میں بستی ہے جہاں سیاسی خبریں آزادنہ طور پر جاری ہوتی ہیں، صحافیوں کی حفاظت کی ضمانت دی گئی ہے، میڈیا کے امور میں ریاستی مداخلت نہ ہونے کے برابر ہے اور صحافت کو سخت قانون یا معاشی دباؤ کا سامنا نہیں ہے۔

رپورٹ میں صحافتی آزادی میں زوال کا باعث پریس کے خلاف لگائی گئی پابندیاں ہیں، جن قوانین میں مستقل اضافہ ہو رہا ہے۔

اس میں کہا گیا ہے کہ اکثر و بیشتر یہ قوانین قومی سلامتی کی وجوہات کا سہارا لے کر وضع کیے جاتے ہیں۔

میڈیا کی آزادی میں کمی کی ایک اور وجہ مقامی اور غیرملکی صحافیوں کی جانب سے خبروں کے ذرائع کی دستیابی اور آزادانہ طور پر خبروں کی ترسیل میں رکاوٹیں حائل ہیں، مثلاً وہ علاقے جہاں احتجاج جاری ہے یا یہ وہ علاقے جو جنگ زدہ ہیں۔

رپورٹ میں مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کی صورت حال کے بارے میں زیادہ تر منفی باتیں درج ہیں، جہاں سڑکوں پر احتجاجی مظاہروں کی لہر آئی ہوئی ہے، جسے عرف عام میں ’عرب اسپرنگ‘ کا نام دیا جاتا ہے۔ لیکن، اس سے صحافتی آزادی کی صورت پیدا نہیں ہوئی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سنہ 2011 میں مشرق وسطیٰ میں تاریخی بہتری نمودار ہوئی، لیکن صرف ایک ہی ملک ایسا ہے جہاں عرب اسپرنگ کے نتیجے میں کوئی فرق نظر آتا ہو۔ ایک دہائی کے دوران، تیونس ہی وہ عرب ملک ہے جہاں بہتری کے آثار نمایاں ہیں، حالانکہ یہ بھی ایک حد تک ہی آزاد ہے۔

فریڈم ہاؤس کے مطابق، مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے باسیوں میں سے صرف دو فی صد میں آزاد صحافت کا ماحول ہے۔
اس میں مصر، لیبیا، شام اور عراق کو ایسے ملک قرار دیا گیا ہے، جہاں آزادی صحافت زوال پذیر رہی، جہاں گذشتہ ایک برس کے دوران شدت پسندی میں اضافہ دیکھا گیا۔

رپورٹ میں توجہ دلائی گئی ہے کہ امریکی براعظم میں ہوندوراس، پیرو، ونزویلا، میکسیکو اور اکواڈور میں آزادی صحافت میں کمی آئی۔ کیوبا میں بھی پریس کی آزادی ڈانواں ڈول رہی، حالانکہ اس کمیونسٹ ملک کے ساتھ امریکہ اپنے سفارتی تعلقات دوبارہ بحال کر رہا ہے۔

اس جانب بھی توجہ دلائی گئ ہے کہ دستمبر کے اواخر میں 50 سے زائد سیاسی اسیروں کو رہا کیا گیا، سنہ 2014میں بھی صحافی قید و بند میں رہے، سرکاری طور پر سینسرشپ کا دور دورہ رہا، جس کے باعث 91 کے اسکور کی سطح پر اس ضمن میں کیوبا علاقے کا بدترین ملک رہا۔

ایشیا میں شمالی کوریا جیسا دنیا کا بدترین ملک شامل ہے، ساتھ ہی ساتھ لاؤس، ویتنام اور چین جیسے ملک بھی ہیں جہاں تاریخی طور پر آزادی صحافت برائے نام ہی ہے۔


XS
SM
MD
LG