رسائی کے لنکس

عالمی سطح پر کاربن گیسوں کے اخراج میں دو فی صد اضافہ


انڈونیشیا میں بڑے پیمانے پر جنگلات جلانے سے آبادیوں میں سانس کے مسائل پیدا ہوتے ہیں، ستمبر 2015

سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ ایک ڈگری سینٹی گریڈ میں اضافے کا مطلب ہے گرمی کی ہلاکت خیز لہروں،  خشک سالی اور بڑے پیمانے کے سمندری طوفانوں میں مزید اضافہ۔

کاربن ڈائی اکسائیڈ گیس کے اخراج میں، جسے عالمی حدت میں اضافے کے ایک بڑے خطرے کے طور پر دیکھا جاتا ہے، اس سال دو فی صد اضافہ ہو جائے گا۔

سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ کاربن گیسوں میں اضافہ کرہ ارض کے لیے سنگین مسائل پیدا ہورہے ہیں اور کاربن گیسوں کے اخراج میں اضافے سے زمین انسانی بقا خطرے میں پڑ جائے گی۔

کاربن گیسوں کے اخراج پر نظر رکھنے والے ادارے کی یہ رپورٹ پیر کے روز اقوام متحدہ میں پیش کی گئی۔

یونیورسٹی آف ایسٹ اینجیلا کے آب و ہوا کی تبدیلیوں سے متعلق مرکز کے ڈائریکٹر اور پورٹ کے مصنف کورین لی کیوری نے کاربن گیسوں کے اخراج میں اضافے کی سطح کو بہت مایوس کن قرار دیا۔

ان کا کہنا ہے کہ انسانی سرگرمیوں کے نتیجے میں 2017 میں اندازاً 41 ارب ٹن کاربن گیس کا اخراج، کرہ ارض کے درجہ حرارت کو دو ڈگری سینٹی گریڈ اضافے سے نیچے رکھنے کی ہماری کوششوں کو منفی طور پر متاثر کر ے گا۔

سن 2015 میں دنیا کے 196 ملکوں نے پیرس معاہدے میں یہ طے کیا تھا کہ وہ گلوبل ورامنگ میں اضافے کو روکنے کے لیے، عالمی درجہ حرارت کو صنعتی دور سے پہلے کی درجہ حرارت سے دو درجے سینٹی گریڈ نیچے لانے کے اقدامات کریں گے۔

بجلی گھروں کی چمینوں سے اگلتا ہوا دھواں زندگیوں میں تاریکی بھرتا ہے۔
بجلی گھروں کی چمینوں سے اگلتا ہوا دھواں زندگیوں میں تاریکی بھرتا ہے۔

سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ ایک ڈگری سینٹی گریڈ میں اضافے کا مطلب ہے گرمی کی ہلاکت خیز لہروں، خشک سالی اور بڑے پیمانے کے سمندری طوفانوں میں مزید اضافہ۔

عالمی معیشت کو توانائی فراہم کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر تیل، قدرتی گیس اور کوئلہ جلایا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی کاربن گیسیں کرہ ارض کے درجہ حرارت میں اضافہ کر رہی ہیں۔ سائنس دانوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ جنگلات کی بڑے پیمانے پر کٹائی بھی عالمی حرارت میں اضافے کے عمل میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

سائنس دانوں نے کہا ہے کہ تین سال کے وقفے کے بعد اس سال کاربن گیسوں کے اخراج میں اضافے کی خبریں نوع انسانی کے لیے نقصان دہ ہے۔

اس سال فیوجی میں آب و ہوا کی تبدیلیوں کی روک تھام سے متعلق ہونے والے سربراہ اجلاس میں سمندر کا درجہ حرارت مسلسل بڑھنے اور پہاڑوں پر صدیوں سے جمی برف اور گلیشیئرز کے بڑے پیمانے پر پگھلنے پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔ فیوجی ان درجنوں چھوٹے جزائر میں شامل ہے جن کے لیے سمندر کی سطح میں اضافے سے بقا کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔

سن 2014 سے 2016 کے عرصے میں توانائی کے متبادل ذرائع کی ترقی، توانائی کے استعمال میں بچت اور چین میں کوئلے کے استعمال میں کمی سے کاربن گیسوں کے عالمی اخراج میں اضافہ رکا رہا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سن 2017 میں عالمی پیمانے پر کاربن گیسوں میں اضافے کا سب سے بڑا سبب چین ہے جہاں اس سال کوئلے کے استعمال میں تین فی صد، تیل کے استعمال میں پانچ اور قدرتی گیس کے استعمال میں 12 فی صد اضافہ ہوا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG