رسائی کے لنکس

گورکھ پور میں بچوں کی ہلاکتوں پر ریاستی حکومت سے جواب طلبی


گورکھ پور کے ڈسٹرکٹ اسپتال میں بچوں کا انتہائی نگلہداشت کا یونٹ۔ 14 اگست 2017

سہیل انجم

قومی انسانی حقوق کمشن نے گورکھ پور کے سرکاری بی آر ڈی میڈیکل کالج اسپتال میں چند روز کے اندر 60 سے زائد بچوں کی اموات پر ریاستی حکومت کو نوٹس جاری کیا اور کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ اس معاملے میں صحت انتظامیہ نے انتہائی سنگ دلی کا مظاہرہ کیا ہے۔ کمشن نے ریاست کے چیف سیکرٹری سے چار ہفتے کے اندر رپورٹ طلب کی اور متاثرہ خاندانوں کی راحت کاری اور قصورواروں کے خلاف کارروائی کی تفصیلات مانگیں۔ 7 اگست کے بعد سے اب تک وہاں 63 سے زیادہ بچوں کی ا موات چکی ہے۔

رپورٹوں کے مطابق اموات کی وجہ آکسیجن کی فراہمی میں رکاوٹ ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ آکسیجن فراہم کرنے والی کمپنی نے 65 لاکھ روپے کے بقایا کی ادائیگی کے لیے متعدد بار درخواست کی تھی۔ عدم ادائیگی کی وجہ سے اس نے آکسیجن کی فراہمی بند کر دی تھی۔

بی جے پی صدر أمت شاہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت جیسے بڑے ملک میں ماضی میں بھی ایسے واقعات پیش آئے ہیں۔ انہوں نے ریاستی وزیر اعلیٰ کا استعفیٰ طلب کرنے پر کانگریس کی مذمت کی۔

ایک ایسے وقت میں جب کہ پوری ریاست میں بچو ں کی اموات پر سوگ کا ماحول ہے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے انتظامیہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ بڑے پیمانے پر دھوم دھام کے ساتھ پیر کے روز کرشن کا یوم پیدائش یعنی کرشن جنم اشٹمی کی تقریبات کا انعقاد کرے۔

ریاستی حکومت نے بی آر ڈی میڈیکل کالج کے پرنسپل کو معطل کرنے کے بعد انسے فلائیٹس مرض اور بچوں کے وارڈ کے سربراہ اور اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر کفیل احمد کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا۔ جب کہ گورکھ پور اور مضافات میں انہیں ایک ہیرو کی حیثیت سے دیکھا جا تا ہے۔ رپورٹوں کے مطابق انہوں نے10 اگست کی رات میں وہاں تعینات نیم مسلح دستے ایس ایس بی سے اس کی گاڑی مانگی اور متعدد جوانوں کو لے کر مختلف مقامات سے اپنی جیب سے آکسیجن کے سیلنڈر اکٹھے کیے اور کئی بچوں کی جان بچائی۔

بہت سے والدین اور ایس ایس بی کے عہدے داروں نے ان کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ وہ متاثرین کے ہیرو ہیں۔ دہلی میں آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز یعنی ایمس کے ڈاکٹروں نے کفیل احمد کو ہٹائے جانے کی مذمت کی اور کہا کہ انہیں قرباني کا بکرا بنایا گیا ہے۔

ڈاکٹرو ں کی تنظیم کے صدر ڈاکٹر ہرجیت سنگھ بھٹی نے کہاکہ ڈاکٹرو ں کو مورد إلزام ٹہرا کر سیاست دان اپنی نااہلی چھپا رہے ہیں۔

ادھر ریاستی وزیر اعلیٰ نے اعلان کیا ہے کہ جو بھی بچوں کی اموات کے ذمے دار ہوں گے ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG