رسائی کے لنکس

پاکستان میں کم عمر بچوں کی بڑی تعداد کو مشکل صورت حال کا سامنا ہے: رپورٹ


ایک بین الاقوامی تنظیم نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں بچوں کی ایک بڑی تعداد کو اوائل عمری میں نہایت سنگین صورت حال کا سامنا ہے۔

'سائلینٹ چائلڈ ہڈ' یعنی خاموش بچپن کے نام سے جاری کی جانے والے اس رپورٹ کے مطابق دنیا کے 172 ممالک میں بچوں کو درپیش مسائل، خاص طور پر انھیں صحت و تعلیم کی سہولتوں کی عدم فراہمی اور ان کے تحفظ سے متعلق مشکلات کا احاطہ کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق 172 ممالک کی اس فہرست میں پاکستان کا نمبر 148 واں جب کہ بھارت 116 ویں، بنگلہ دیش 134 ویں اور سری لنکا کا 61 واں جب کہ افغانستان کا 152 ہے۔

رپورٹ کے مطابق دنیا میں اسکول جانے کے عمر کے بچوں میں سے ہر چھ میں سے ایک بچہ اسکولوں سے باہر ہے اور تنازعات کی وجہ سے دنیا میں 80 میں سے ایک بچے کو اپنا گھر بار چھوڑنا پڑا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ دنیا بھر میں 16 کروڑ بچوں کو مشقت کرنا پڑتی ہے جب کہ ان میں 85 فیصد بچے ایسے ہیں جو خطرناک حالات میں کام کرتے ہیں۔

پاکستان میں بچوں کے حقوق کے سرگرم کارکنوں اور صحت کے ماہرین کہنا ہے کہ پاکستانی بچوں کی ایک بڑی تعداد کو نہایت مشکل صورت حال کا سامنا ہے۔

ان میں ایک بڑی تعداد ایسی ہے جنہیں نا صرف جسمانی و جنسی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے بلکہ غذائیت کی کمی کی وجہ سے ان کی نشو نما بھی صیحح نہیں ہوتی ہے اور وہ کئی طرح کے جسمانی و ذہنی عوارض کا شکار ہو جاتے ہیں۔

اسلام آباد میں قائم ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اکرم نے جمعہ کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ غذائیت کی کمی کے شکار بچوں کی قوت مدافعت کم ہو جاتی ہے۔

" 60 فیصد بچے ایسے ہیں جو مختلف نوعیت کی غذائیت کی کمی کا شکار ہو تے ہیں اور انہیں بار بار انفیکشن اس لیے ہوتی ہے کیونکہ ان کی قوت مدافعت کم ہوتی ہے۔ خاص طور پر ان خاندانوں کی بچے جو غربت کا شکار ہوتے ہیں، ان میں یہ مسئلہ سب سے زیادہ ہے۔"

پاکستان عہدیداروں کا یہ کہنا ہے کہ ملک میں صحت عامہ کے شعبے میں بہتری آئی ہے اور خصوصاً زچہ و بچہ کو فراہم کی جانے طبی سہولتوں میں اضافہ ہوا ہے۔

پاکستان میں بچوں کو غذائیت کی کمی کا ہی سامنا نہیں بلکہ ایک بڑی تعداد میں ایسے واقعات رپورٹ ہوتے رہتے ہیں جن میں بچوں کو جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے سرگرم غیر سرکاری تنظیم ساحل کے سے وابستہ ممتاز گوہر نے کہا کہ ایسے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے گزشتہ سال پاکستان کے مختلف علاقوں سے بچوں سے جنسی تشدد کے چار ہزار سے زائد کیس رپورٹ ہوئے۔

گوہر ممتاز نے کہا کہ اگرچہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے حالیہ سالوں میں حکومت نے کئی قوانین وضح کیے ہیں تاہم ان کے بقول ان پر موثر عمل درآمد کروا کر ہی ایسے واقعات کا تدارک کیا جا سکتا ہے۔

حکومتی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ حکومت ایسے واقعات کو سنجیدگی سے لیتی ہے اور اس نے ملک بھر میں درجن سے زائد ایسے متحسب مقرر کیے ہیں جو صرف بچوں سے متعلق شکایات کے ازالے کے لیے کام رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG