رسائی کے لنکس

logo-print

بدعنوانی میں ملوث افراد کو تاحیات نااہل قرار دینے کی تجویز


وزیر قانون زاہد حامد کا کہنا تھا کہ 'پلی بارگین' کا  لفظ ہی غلط ہے اور بدعنوانی کرنے والے سے بارگین ہونی ہی نہیں چاہیئے'۔

پاکستان کی حکومت نے ملک میں احتساب کے قانون میں مجوزہ ترمیم کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس ترمیم کے بعد بدعنوانی سے حاصل کی گئی رقم کی پلی بارگین یا رضاکارانہ طور پر واپسی پر ایسا شخص ہمیشہ کے لیے سرکاری و عوامی عہدوں کے لیے نااہل ہو جائے گا۔

پاکستان میں احتساب کے قانون کے تحت ملک کے انسداد بدعنوانی کے ادارے قومی احتساب بیورو کے سربراہ کو بدعنوانی کے ذریعے حاصل کی گئی رقم کی رضاکارانہ واپسی پر ملزموں کے خلاف مزید کارروائی نا کرنے کا صوابدیدی اختیار رکھتے ہیں۔

تاہم اس معاملے پر نا صرف پاکستان کے سیاسی و سماجی حلقوں کی طرف سے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا بلکہ پاکستان کی عدالت عظمٰی نے اس معاملے کا نوٹس لیا ہوا ہے۔

عدالت نے اس معاملے کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے تھے کہ یہ پلی بارگین اور رضا کارانہ رقم کی واپسی کا قانون ملک میں بدعنوانی کے فروغ کا باعث بن رہا ہے۔ عدالت نے اس بارے میں حکومت سے جواب طلب کر رکھا ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ اسحق ڈار نے ہفتہ کو اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ اب حکومت اس قانونی سقم کو دور کرنے کے لیے احتساب کے قانون میں ایک آرڈیننس کے ذریعے ترمیم لا رہی ہے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ متوقع طور یہ آرڈیننس ہفتہ کی رات کو جاری کر دیا جائے گا۔

وزیر خزانہ نے مزید بتایا کہ وزیراعظم نواز شریف کی تجویز ہے کہ پلی بارگین میں عدالتی منظوری بھی ہو اور بدعنوانی میں ملوث افراد پر کسی بھی عوامی اور سرکاری عہدے پر تاحیات پابندی بھی شامل ہو۔

وزیر قانون زاہد حامد کا کہنا تھا کہ 'پلی بارگین کا لفظ ہی غلط ہے اور بدعنوانی کرنے والے سے بارگین ہونی ہی نہیں چاہیئے.

" جو بھی رضاکارانہ طور پر (بدعنوانی سے حاصل کی گئی) رقم واپس کرنا چاہتا ہے تو اس کے لیے عدالت سے منطوری ضروری ہے۔ اس کے ساتھ اسے جرم کا مرتکب قرار دینے کے ساتھ تاحیات نااہل بھی قرار دیا جائے گا۔"

اسحاق ڈار نے کہا کہ اس مجوزہ ترمیم کے تحت بدعنوانی میں ملوث افراد ہمیشہ کے لیے عوامی اور سرکاری عہدوں کے لیے نااہل ہو جائیں گے۔

"یہ ایک انتہائی اقدام ہے لیکن حکومت سمجھتی ہے کہ بدعنوانی کو روکنے کے لیے سخت سزا ہونی چاہیئے۔"

سیاسی امور کے تجزیہ کار اور پاکستان میں جمہوریت کے فروغ لیے کے کام کرنے والے غیر سرکاری ادارے پلڈاٹ کے سربراہ احمد بلال محبوب نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے اسے ایک خوش آئند اقدام قرار دیا۔

" یہ ایک بڑی مناسب (مجوزہ) ترمیم ہے۔۔۔اگر کسی شخص نے تسلیم کر لیا ہو کہ اس نے بدعنوانی کی ہے تو اس کے بعد اس کا کسی بھی عوامی اور سرکاری عہدے پر واپس آنا غیر مناسب ہے۔"

احمد بلال نے کہا کہ پاکستان کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں بدعنوانی ایک بہت بڑا چیلنج ہے انہوں نے کہا کہ صرف قوانین میں ترمیم کرنے سے بدعنوانی کا خاتمہ ممکن نہیں بلکہ انسداد بدعنوانی کے قوانین کا موثر اطلاق بھی ضروری ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات سے بدعنوانی میں روکنے میں مدد ملے گی لیکن اس کے لیے بدعنوانی کے خلاف عوامی شعور اور تعلیم و آگاہی کا فروغ بھی ضروری ہے۔

XS
SM
MD
LG