رسائی کے لنکس

logo-print

نام 'ای سی ایل' میں ڈالنے کے خلاف شہباز شریف کی توہینِ عدالت کی درخواست


فائل فوٹو

پاکستان کی وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف شہباز شریف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈال دیا ہے۔ ای سی ایل میں نام آنے کے بعد اُن پر سفری پابندیاں عائد ہوں گی اور وہ پاکستان سے باہر نہیں جا سکیں گے۔

حکومت نے عدالتِ عالیہ لاہور کی جانب سے انہیں ملک سے باہر جانے کی اجازت دینے کے فیصلے کو بھی عدالتِ عظمٰی میں چیلنچ کیا ہے۔ دوسری جانب شہباز شریف نے حکومت کے خلاف توہینِ عدالت کی درخواست دائر کر دی ہے۔

حزبِ اختلاف کی سیاسی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کا نام ای سی ایل (سفری پابندیوں کی فہرست) میں شامل کیے جانے کے حوالے سے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیرِ داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا کہ شہباز شریف کے خلاف کیس میں چار ملزمان سلطانی گواہ بن چکے ہیں۔

شیخ رشید کا کہنا تھا کہ اگر انہیں باہر جانے کی اجازت دے دی گئی تو وہ ثبوتوں اور کیس پر اثر انداز ہوسکتے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شہباز شریف کے سوا اس کیس کے تمام ملزمان کے نام ای سی ایل میں تھے۔ آئین کی دفعہ 25 کے تحت انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ تمام ملزموں سے ایک جیسا سلوک کیا جائے۔

شیخ رشید نے مزید کہا کہ یہ یکساں سلوک نہیں کہ 14 ملزمان کے نام ای سی ایل میں تھے جب کہ ایک ملزم رات کی تاریکی میں پاکستان سے فرار ہو رہا تھا۔

وفاقی وزیرِ داخلہ کا کہنا تھا کہ شہباز شریف اس بات کے بھی ضمانتی تھے کہ وہ نواز شریف کو وطن واپس لائیں گے، لیکن وہ ایسا نہ کر سکے اور سحری سے پہلے یہاں سے فرار ہو رہے تھے۔

وزیرِ داخلہ نے کہا کہ شہباز شریف نے اپنی بیماری اور اِس کے علاج کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔ اُنہوں نے اپنے بھائی کی طرح کسی قسم کی کوئی طبی دستاویزات جمع نہیں کرائیں۔ رپورٹ نہ ہونے کی وجہ سے یہ دیکھنا بھی ممکن نہیں تھا کہ اَن کا علاج پاکستان میں ہے یا نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ٹرائل کورٹ میں پیش ہونے کے حوالے سے بھی انہوں نے کوئی درخواست نہیں دی اور نہ ہی اپنا کوئی نمائندہ مقرر کیا۔ اس بنیاد پر قومی احتساب بیورو (نیب) نے کچھ سفارشات پیش کیں جسے کابینہ کمیٹی نے منظور کر لیا ہے۔

شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ "کابینہ کمیٹی کے ذریعے وزارتِ قانون اور وزارتِ داخلہ نے وفاقی کابینہ کو سمری ارسال کی جسے منظور کر لیا گیا ہے اور آج صبح وزارتِ داخلہ نے شہباز شریف کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا نوٹی فکیشن جاری کر دیا ہے۔

اُن کے بقول، اگر شہباز شریف چاہیں تو ای سی ایل میں نام آنے پر نظرِ ثانی کے لیے 15 روز کے اندر وزارت داخلہ کو درخواست دے سکتے ہیں۔

نواز شریف سے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے شیخ رشید نے کہا کہ جب نواز شریف واپس نہیں آئے تو شہباز شریف نے کہاں سے واپس آنا تھا۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی حکومت چاہتی ہے کہ نواز شریف کو برطانیہ سے ملک بدر کیا جائے جب کہ برطانوی ہائی کمشنر نے کہا ہے کہ مجرمان کے تبادلے کا کیس داخل کیا جائے۔

بیرون ملک جانے کی اجازت دینے کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج

اُدھر وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف شہباز شریف کا نام بلیک لسٹ سے نکالنے کے عدالت عالیہ لاہور کے فیصلے کو عدالتِ عظمٰی میں چیلنج کیا ہے۔ اٹارنی جنرل آف پاکستان نے سپریم کورٹ آف پاکستان میں لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ چیلنج کرتے ہوئے عدالت سے اپیل کی ہے کہ فیصلے تک لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کیا جائے۔

اٹارنی جنرل آف پاکستان کے دفتر سے دائر کی گئی درخواست میں شہباز شریف کو فریق بناتے ہوئے عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ شہباز شریف کا نام بلیک لسٹ سے نکالنے کا حکم کالعدم قرار دیا جائے۔

درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے متعلقہ حکام سے جواب مانگا نہ کوئی رپورٹ طلب کی۔ عدالت ملزم کو بیرون ملک جانے کی اجازت دینے کا یکطرفہ فیصلہ نہیں کر سکتی۔

درخواست کے مطابق، شہباز شریف کے واپس آنے کی کوئی گارنٹی نہیں۔ وہ خود نواز شریف کی پاکستان واپسی کے ضمانتی ہیں۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ شہباز شریف کی اہلیہ، بیٹا، بیٹی اور داماد پہلے ہی مفرور ہیں۔ لہذٰا عدالت ملک سے باہر جانے کے فیصلے کو کالعدم قرار دے۔

یاد رہے کہ رواں ماہ سات مئی کو عدالتِ عالیہ لاہور نے شہباز شریف کو علاج معالجے کی غرض سے آٹھ ہفتوں کے لیے ملک سے باہر جانے کی مشروط اجازت دی تھی۔

نام ای سی ایل میں ڈالنے پر توہینِ عدالت کی درخواست

دوسری جانب شہباز شریف نے عدالتِ عالیہ لاہور کی جانب سے اجازت کے باوجود بیرونِ ملک سفر کرنے سے روکنے پر توہینِ عدالت کی درخواست دائر کر دی۔

شہباز شریف نے اپنے وکلا سینیٹر اعظم نذیر تارڑ اور امجد پرویز ایڈوکیٹ کی وساطت سے دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ عدالتِ عالیہ لاہور نے علاج کے لیے ایک بار ملک سے باہر جانے کی اجازت دی تھی۔

عدالتی حکم کے مطابق وہ آٹھ ہفتوں کے لیے پاکستان سے باہر جا سکتے ہیں لیکن عدالتی حکم کے باوجود اُنہیں لاہور ایئر پورٹ پر روک دیا گیا۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ایئرپورٹ حکام نے تحریری طور پر کچھ نہیں کہا۔ لاہور ہائی کورٹ کے حکم کے باوجود بیرون ملک جانے کی اجازت نہ دینا توہینِ عدالت کے زمرے میں آتا ہے۔ عدالت اپنے حکم پر عمل درآمد کرانے کے لیے احکامات جاری کرے۔

یاد رہے اِس سے قبل گزشتہ ماہ عدالتِ عالیہ لاہور کے دو رکنی بینچ نے مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کی درخواست ضمانت پر اختلافی فیصلہ دیا تھا، جس کے بعد فیصلہ ریفری جج کو بھجوا دیا گیا تھا۔ ریفری جج نے اُن کی درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے شہباز شریف کو رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG