رسائی کے لنکس

حمزہ شہباز 20 ماہ بعد رہا، کیا مسلم لیگ کی حکمتِ عملی برقرار رہے گی؟


فائل فوٹو

پنجاب کے سابق وزیرِ اعلیٰ شہباز شریف کے صاحب زادے اور پنجاب اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف حمزہ شہباز 20 ماہ بعد جیل سے رہا ہو گئے ہیں۔

جیل سے رہا ہونے پر حمزہ شہباز کا استقبال ان کی چچا زاد بہن اور نائب صدر پاکستان مسلم لیگ (ن) مریم نواز نے کیا۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما حمزہ شہباز کو منی لانڈرنگ کیس میں ایک ایک کروڑ روپے کے دو ضمانتی مچلکے جمع کرانے پر کوٹ لکھپت جیل سے رہا کیا گیا ہے۔ جنہیں ریلی کی شکل میں اُن کی رہائش گاہ تک لایا گیا۔

رہائی کے بعد حمزہ شہباز شریف کا کہنا تھا کہ جیلیں اُن کے لیے نئی بات نہیں ہیں اور نہ ہی وہ سیاسی انتقام سے گھبرائیں گے۔

کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ تین سال میں موجودہ حکمران بے نقاب ہوئے ہیں۔

وزیرِ اعظم عمران خان کا نام لے کر اُنہوں نے کہا کہ اب اُن کا یوم حساب قریب ہے۔ وہ چوروں کو ساتھ بٹھا کر ریاست مدینہ کی بات کرتے ہیں۔

قبل ازیں مریم نواز نے جاتی امرا کے باہر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حمزہ شہباز نے 20 ماہ سے زائد کی جیل کاٹی ہے۔ تاہم وہ ڈٹے رہے۔

اس موقع پر مریم نواز کا کہنا تھا کہ ان کی پارٹی حمزہ شہباز اور ان کی جو بھی ذمہ داری لگائے گی، وہ اس کو پورا کریں گے۔

مریم نواز نے اس موقع پر تحریک انصاف کی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک بار عمران خان آ گئے دوبارہ نہیں آئیں گے۔

سینیٹ انتخابات سے متعلق گفتگو میں مریم نواز کا کہنا تھا کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے مشترکہ امیدوار یوسف رضا گیلانی اپنی کامیابی کے لیے محنت کر رہے ہیں۔

ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ اب لانگ مارچ کی تیاریاں ہوں گی۔ اب ایک حلقہ کھلا تو چیزیں کھل گئی ہیں۔

ان کے بقول ہوسکتا ہے کہ لانگ مارچ کی ضرورت ہی نہ پڑے۔

ترجمان پنجاب حکومت مسرت جمشید چیمہ، حمزہ شہباز کی ضمانت پر رہائی کے بارے میں کہتی ہیں کہ اگر کیس کی تفتیش مکمل ہو گئی ہے یا ریفرنس ابھی دائر نہیں ہوا تو کسی کو جیل میں رکھنا مناسب نہیں۔

وائس آف امریکہ سےگفتگو کرتے ہوئے ترجمان پنجاب حکومت نے کہا کہ حمزہ شہباز ضمانت کا حق رکھتے ہیں۔ جلد اِن کے کیسز کا فیصلہ ہو جائے گا۔

مسرت جمشید چیمہ کا مزید کہنا تھا کہ وزیرِ اعظم اور دیگر اداروں کے سربراہ بھی یہ چاہتے ہیں کہ جو بھی کیس بنے ہوئے ہیں، وہ کسی انجام تک پہنچنے چاہئیں۔

انہوں نے کہا کہ مریم اِس لیے حمزہ کو لینے گئی ہیں کہ وہ اس تاثر کو زائل کرنا چاہتی ہیں کہ اُنہوں نے جماعت پر قبضہ کر رکھا ہے۔

ان کے بقول مریم نواز کے بہت سے جلسے ناکام ہوئے جس کے بعد مسلم لیگ کے کارکنوں نے محسوس کیا کہ شہباز شریف اور حمزہ شہباز کو ایک طرف کر کے پنجاب میں کامیابی حاصل نہیں کی جا سکتی۔

اُنہوں نے کہا کہ ایسا نظر آ رہا ہے کہ شہباز شریف اور مریم نواز کی سیاست اکٹھی نہیں چل سکتی۔

مبصرین کے مطابق حمزہ شہباز کے خلاف کیس میں عدالتیں تو کسی بھی ڈیل کا حصہ نہیں بنیں۔ البتہ عدالتوں سے باہر کچھ ہونے کے اشارے مل رہے ہیں۔

سینئر صحافی اور تجزیہ کار صابر شاکر کہتے ہیں کہ اِس سے قبل بھی جب حمزہ شہباز کی درخواستِ ضمانت عدالتِ عظمٰی میں آئی تھی تو اُس وقت انہوں نے میرٹ پر درخواست نہیں دی تھی یعنی درخواست کی بنیاد مضبوط نہیں تھی۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے صابر شاکر نے کہا کہ حمزہ شہباز نے اپنی درخواست ضمانت میں ہارڈشپ کا ذکر نہیں کیا تھا جس کو سپریم کورٹ نے بھی یہ کہہ کر واپس کر دیا تھا کہ آپ نے عدالت عالیہ میں اس کا ذکر نہیں کیا تھا۔

صابر شاکر کی رائے میں حمزہ شہباز نے لاہور ہائی کورٹ میں ہارڈشپ کی بنیاد پر ضمانت کی درخواست دی اور مؤقف اختیار کیا کہ ایک سال سے زائد ہو گیا ہے۔ نیب کی جانب سے کسی قسم کا کوئی ریفرنس دائر نہیں کیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ ایسے کیسوں میں اگر ریفرنس دائر نہیں کیا جاتا اور کیس کی کارروائی کو بھی آگے نہیں چلایا جا رہا ہو تو پھر کسی بھی ہائی پروفائل یا سیاسی شخصیت کو اس طرح سے زیادہ دیر تک گرفتار رکھنا بھی مناسب نہیں۔

صابر شاکر نے کہا کہ ایسے کیسوں میں عدالتیں کچھ رعایتیں دیتی ہیں اور یہ وجہ ہے کہ اس وقت بہت سارے لوگ باہر ہیں۔

صابر شاکر کی رائے میں ہو سکتا ہے کہ کچھ معاملات عدالت سے باہر بھی طے ہوئے ہوں۔ کیوںکہ ان کے بقول کسی بھی کیس میں اگر پراسیکیوٹر اچھے طریقے سے مخالفت نہیں کرتا، تو ایسی صورت میں عدالت کے پاس بھی کسی بھی قیدی کو جیل میں بند کرنے کا اختیار نہیں ہوتا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر پراسیکیوٹر بھی اس بات کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ ہارڈ شپ کا کیس بنتا ہے اور ابھی تک ریفرنس بھی فائل نہں کیا جا سکا، اِس کا مطلب ہے کہ باہر سے بھی کچھ اشارے ہوئے ہوں گے۔

سینئر صحافی اور تجزیہ کار نسیم زہرہ سمجھتی ہیں کہ کسی حد تک یہ کہا جا سکتا ہے کہ حزبِ اختلاف کی سیاسی جماعتوں کو ریلیف ملنے کی بات ہوئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک طرف حمزہ شہباز کو ضمانت ملی تو دوسری طرف آصف علی زردای کے مقدمات بھی کراچی منتقل ہو گئے ہیں۔

نسیم زہرہ کے مطابق اگر حمزہ شہباز کی ضمانت کو قانونی طور پر بھی دیکھا جائے تو وہ 20 ماہ قید میں رہے اور ان کے خلاف کوئی ریفرنس دائر نہیں کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ حمزہ کے خلاف 110 میں سے 10 گواہوں پر جرح تو ہوئی جس کے بعد اُن کی ضمانت قانونی طور پر بھی بنتی ہے اور پردے سے ہٹ کر دیکھیں تو کسی حد تک ریلیف بھی مل رہا ہے جس کے بارے میں وقت بتائے گا۔

صابر شاکر کے مطابق حمزہ شہباز کی رہائی سے پی ڈی ایم کی حکمتِ عملی میں تو شاید کوئی تبدیلی نہ آئے۔ البتہ شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے نہ ہونے سے مسلم لیگ (ن) کی بطور جماعت ساری توجہ مریم نواز پر منتقل ہو رہی تھی اور مریم ہی تمام فیصلے کر رہیں تھیں جس کا مظاہرہ سینیٹ کے انتخابات کے موقع پر بھی دیکھا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کے اندر بھی مریم بمقابلہ شہباز بیانیے کی بات چل رہی ہے۔ یہ بیانیہ موجود ہے اور مریم شاید اِسی تاثر کو زائل کرنے کے لیے حمزہ کو لینے گئی ہیں۔

نسیم زہرہ سمجھتی ہیں کہ حمزہ شہباز کی رہائی سے حکومت مخالف سیاسی جماعتوں پر مشتمل اتحاد میں تو کوئی تیزی نہیں آئے گی۔ کیوں کہ جماعت میں بھی مریم کا قد زیادہ بڑا ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے نسیم زہرہ نے کہا کہ مسلم لیگ میں بھی حمزہ شہباز کی نسبت مریم نواز کا سیاسی قد بڑا ہے اور فیصلے کا اختیار اُنہی کے پاس ہے۔

واضح رہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے گزشتہ دنوں حمزہ شہباز کی ایک ایک کروڑ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض رہائی کا حکم دیا تھا۔

منی لانڈرنگ کیس میں گرفتار اُن کی درخواست ضمانت پر سماعت لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر اور جسٹس اسجد جاوید گھرال پر مشتمل بینچ نے کی تھی۔

رمضان شوگر ملز کیس میں اِس سے قبل عدالت اُن کی ضمانت منظور کر چکی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG