رسائی کے لنکس

logo-print

تلور کا محدود شکار پرندے کی نسل کی بقا کے لیے مددگار: پاکستانی حکام


بینچ میں شامل جج قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ حکومت کے اقدام سے اس پرندے کی نسل جلد ختم ہو جائے گی، " کیا آپ پاکستان کو ریگستان میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔"

پاکستان کی وفاقی حکومت نے ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کو بتایا ہے کہ تلور کے شکار پر پابندی عائد کرنے سے اس کی نسل کے بقا کے لیے کی جانے والی کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں۔

تلور کے شکار کے لیے ہر سال موسم سرما میں عرب ممالک سے امرا اور شاہی خاندانون کے لوگ پاکستان کے جنوبی علاقوں کا رخ کرتے لیکن رواں سال اگست میں سپریم کورٹ نے اس پرندے کے شکار پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ سنایا تھا۔

تاہم اس فیصلے پر نظرثانی کے لیے وفاقی حکومت نے عدالت عظمیٰ سے رجوع کیا۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل عامر رحمان نے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کے سامنے موقف اپنایا کہ محدود پیمانے پر تلور کا شکار اس پرندے کی نسل کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔

"تحفظ کی کوششیں وہاں (شکار والے علاقوں) کے لوگوں کی اقتصادی بھلائی کے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتیں۔" ان کے بقول شکار کے لیے آنے والوں کی وجہ سے علاقے میں اقتصادی سرگرمیاں جنم لیتی ہیں۔

بینچ میں شامل جج قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ حکومت کے اقدام سے اس پرندے کی نسل جلد ختم ہو جائے گی، " کیا آپ پاکستان کو ریگستان میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔"

انھوں نے استفسار کیا کہ "کیا یہ (عرب شہزادے) اپنے ملک میں شکار نہیں کرسکتے۔"

ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بینچ کو بتایا کہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں حکومت کی طرف سے پیش کیے جانے والے سائنسی شواہد اور نہ ہی تلور کے شکار کی اجازت دینے والے صوبائی حکومت کے قوانین کو غور کیا۔

عدالت عظمیٰ نے سماعت تین ہفتوں تک ملتوی کرتے ہوئے عامر رحمان سے کہا کہ وہ اس پرندے کی نسل، آبادی اور اس کے تحفظ کے لیے کی جانے والی کوششوں سے متعلق مزید معلومات عدالت میں پیش کریں۔

اس پرندے کو عالمی سطح پر معدومی کے خطرے سے دوچار پرندوں کی فہرست میں شامل کیا جا چکا ہے اور ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں ان کی تعداد صرف 97000 رہ گئی ہے۔

XS
SM
MD
LG