رسائی کے لنکس

logo-print

زرداری، بلاول اور فریال تالپور کے بیرونِ ملک جانے پر پابندی


فائل فوٹو

پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور سابق وزیرِ اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کا نام بھی فہرست میں شامل ہے۔

وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ میں زیرِ سماعت جعلی بینک اکاؤنٹس کے ذریعے منی لانڈرنگ کے مقدمے میں مبینہ طور پر ملوث افراد کی فہرست جاری کردی ہے۔

فہرست میں شامل تمام لوگوں کے نام 'ایگزٹ کنٹرول لسٹ' میں شامل کردیے گئے ہیں جس کے بعد ان کے بیرونِ ملک جانے پر پابندی ہوگی۔

فہرست میں سابق صدر آصف علی زرداری، ان کے بیٹے بلاول بھٹو زرداری، ہمشیرہ فریال تالپور اور وزیرِ اعلٰی سندھ مراد علی شاہ سمیت 172 سیاست دانوں، بیوروکریٹس اور کچھ بینکوں کے صدور کے نام شامل ہیں۔

پیپلز پارٹی نے حکومت کے فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ حکومت کا ایجنڈا عوامی مسائل نہیں، بلکہ سیاسی انتقام ہے جب کہ حکومت کا کہنا ہے کہ ملزمان کو اپنا دفاع پیش کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔

وفاقی حکومت نے جمعے کو ملزمان کی جو فہرست جاری کی ہے اس میں پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کا نام 24 ویں نمبر پر، چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو کا نام 27 ویں، فریال تالپور کا نام 36 ویں اور پراپرٹی ٹائیکون اور بحریہ ٹاون کے مالک ملک ریاض کا نام 72 ویں نمبر پر ہے۔

پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور سابق وزیرِ اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کا نام بھی فہرست میں شامل ہے۔

اس کے علاوہ صوبائی وزیر امتیاز شیخ، حسین لوائی، ڈاکٹر ڈنشا ایچ انکل سریا، منصور قادر کاکا، مکیش چاؤلہ، محمد اعجاز ہارون پر بھی بیرونِ ملک سفر کرنے پابندی عائد کردی گئی ہے۔

مقدمے میں گرفتار عبدالغنی مجید سمیت 'اومنی' گروپ کے 10 افراد بھی بیرونِ ملک نہیں جاسکیں گے۔

بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض کے داماد زین ملک کا نام بھی فہرست میں ہے۔ ایڈیشنل سیکریٹری فنانس ناصر احمد شیخ، سیکریٹری انڈسٹری ضمیرحیدر اور سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کے قائم مقام چیئرمین طاہر محمود اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر عابد حسین بھی ملک سے باہر نہیں جاسکیں گے۔

حکومت نے کئی نجی بینکوں کے سربراہان اور اعلیٰ افسران پر بھی بیرونِ ملک جانے پر پابندی لگادی ہے۔ ان میں سمٹ بینک کے سربراہ حسین لوائی اور صدر ضمیر اسماعیل، سابق صدر نیشنل بنک علی رضا، قائم مقام صدر سمٹ بینک احسن رضا درانی، سندھ بینک کے چیئرمین بلال شیخ کے علاوہ کئی سابق اور موجودہ بیوروکریٹس اور تاجروں کے نام شامل ہیں۔

'ایک ایک روپے کا حساب لیں گے'

گزشتہ روز وفاقی وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری نے ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ حکومت نے جعلی اکاؤنٹس کیس کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کے نامزد کردہ 172 ملزمان اور مشتبہ افراد کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کا فیصلہ کیا ہے۔

فواد چوہدری نے الزام لگایا تھا کہ ان افراد نے منی لانڈرنگ کے لیے عوامی عہدوں کا استعمال کیا تھا اور اب ان سے ایک ایک روپے کا حساب لیا جائے گا۔

وفاقی وزیرِ اطلاعات فواد چودھری نے گزشتہ روز اعلان کیا تھا کہ حکومت ان تمام 172 افراد کے نام ای سی ایل میں ڈال رہی ہے جن پر جے آئی ٹی نے معاملے میں ملوث قرار دیا ہے۔ (فائل فوٹو)
وفاقی وزیرِ اطلاعات فواد چودھری نے گزشتہ روز اعلان کیا تھا کہ حکومت ان تمام 172 افراد کے نام ای سی ایل میں ڈال رہی ہے جن پر جے آئی ٹی نے معاملے میں ملوث قرار دیا ہے۔ (فائل فوٹو)

منی لانڈنگ کیس 2015ء میں پہلی دفعہ اسٹیٹ بینک نے اٹھایا تھا جب اس نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو مشکوک ترسیلات کی رپورٹ بھیجی تھی۔

معاملے کی تحقیقات کے دوران 'اومنی' گروپ کا نام سامنے آیا تھا اور پتہ چلا کہ تھا تمام بینک اکاؤنٹس 2013ء سے 2015ء کے دوران چھ سے 10 ماہ کے لیے کھولے گئے جن کے ذریعے منی لانڈرنگ کی گئی۔

دستیاب دستاویزات کے مطابق ان اکاؤنٹس کے ذریعے کم از کم 35 ارب روپے کی منی لانڈرنگ ہوئی۔

رواں سال 5 ستمبر کو سپریم کورٹ نے اس معاملے کی تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی تھی جو اپنی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کرچکی ہے۔ رپورٹ میں 172 افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔

'احتساب کرنا ہے تو اپنے گھر سے شروع کریں'

آصف علی زرداری کی صاحب زادی بختاور بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ ایک "منتخب شدہ حکومت" نے میرے والد، بھائی اور پھوپھی کا نام ای سی ایل میں شامل کر دیا ہے۔ ہمارے خلاف یہ ہتھکنڈے نہیں چلیں گے۔

ایک اور پیغام میں انہوں نے کہا ہے کہ اپوزیشن کو ڈرا دھمکا کر اور دباؤ میں لا کر حکومت اپنے غیرقانونی مینڈیٹ کو چھپا نہیں سکتی۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی ان کے خاندان نے رسوائی کے مقابلے میں موت کو قبول کیا اور اب بھی "ہم لڑیں گے اور ہم جیتیں گے۔"

پیپلز پارٹی نے بھی وفاقی کابینہ کے فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

پی پی پی کی رہنما سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی اس طرح کی سازش اور میڈیا ٹرائل سے نہیں ڈرتی۔

انہوں نے کہا کہ جمہوریت کے لبادے میں آمریت کو مسلط کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ حکومت احتساب اور انتقام میں فرق کرے اور اگر اسے احتساب کرنا ہے تو شروعات اپنے گھر سے کرے۔

دریں اثنا وفاقی وزیرِ قانون فروغ نسیم نے کہا ہے کہ ملزمان کو سنے بغیر ان کا نام ای سی ایل میں ڈالا جا سکتا ہے۔ جے آئی ٹی رپورٹ منظرِ عام پر آنے سے کیس پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ ملزمان کو اپنا دفاع پیش کرنے کا پورا پورا حق ہے۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ حکومتی نمائندوں کے خلاف بھی اگر ثبوت ملیں گے تو ان کا نام بھی ای سی ایل میں ڈالا جائے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG