رسائی کے لنکس

logo-print

بھارتی کشمیر میں گورنر راج نافذ، فوجی مہم تیز کرنے کا عندیہ


وزیرِ اعلیٰ محبوبہ مفتی کی حکومت ختم ہونے کے بعد گورنر ووہرا نے ریاست کا انتظامی چارج سنبھال لیا ہے۔ (فائل فوٹو)

نئی دہلی میں حکومتی ذرائع نے عندیہ دیا ہے کہ شورش زدہ ریاست میں سرگرم علیحدگی پسندوں اور ان کے حامیوں کے خلاف جاری مہم میں مزید شدت لائی جائے گی۔

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی مخلوط حکومت گرجانے کے بعد ریاست میں گورنر راج نافذ کردیا گیا ہے۔

سرینگر میں راج بھون (گورنر ہاؤس) سے بُدھ کو جاری کیے جانے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارت کے صدر رام ناتھ کووند کی طرف سے منظوری ملنے کے فوراً بعد گورنر نریندر ناتھ ووہرا نے آئین کی دفعہ 92 کے تحت ریاستی اسمبلی کو معطل کرتے ہوئے گورنر راج نافذ کردیا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ گورنر ووہرا نے اُن بڑے بڑے کاموں کی نشاندہی کرنے کے لیے ریاست کے چیف سیکرٹری بی بی ویاس کے ساتھ صلاح مشورہ کیا ہے جنہیں ایک مقررہ وقت کے اندر انجام دینے کی ضرورت ہے۔

ریاست کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد گورنر نے انتظامیہ، پولیس اور دوسرے محکموں کے اعلیٰ افسران کا ایک اجلاس بھی طلب کیا جس میں انتظامیہ کو فعال اور ذمہ دار بنانے کے لیے اقدامات پر غور کیا گیا۔

گورنر نے ریاست میں سکیورٹی کی صورتِ حال کا جائزہ لینے کے لیے بدھ کی سہ پہر پولیس، نیم فوجی دستوں، فوج، سراغ رساں اداروں اور سول انتظامیہ کے اعلیٰ افسران کا بھی ایک خصوصی اجلاس طلب کیا ہے۔

نئی دہلی میں حکومتی ذرائع نے عندیہ دیا ہے کہ شورش زدہ ریاست میں سرگرم علیحدگی پسندوں اور ان کے حامیوں کے خلاف جاری مہم میں مزید شدت لائی جائے گی۔

ذرائع کے مطابق ریاست میں گورنر راج جمعرات کی نصف شب سے نافذ ہونا تھا لیکن اس میں چھ گھنٹے کی تاخیر اس لیے ہوئی کیوں کہ بھارتی صدر سے، جو تین ملکوں کے سرکاری دورے پر ہیں، رابطہ بھارتی وقت کے مطابق بُدھ کو صبح چھ بجے اس وقت ممکن ہوسکا جب وہ جنوبی امریکہ کے ساحلی ملک سرینام میں ہوائی جہاز میں سفر کر رہے تھے۔

یہ گزشتہ چار دہائیوں کے دوران آٹھواں اور موجودہ گورنر نریندر ناتھ ووہرا کے میعادِ عہدہ کے دوران چوتھا موقع ہے جب بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں گورنر راج نافذ کیا گیا ہے۔

نریندر ناتھ ووہرا کو 25 جون 2008ء کو ریاست کا گورنر مقرر کیا گیا تھا۔

ریاست میں پچھلی بار گورنر راج 8 جنوری 2016ء کو وزیرِ اعلیٰ اور پی ڈی پی کے سرپرست مفتی محمد سعید کے انتقال کے ایک دن بعد نافذ کیا گیا تھا۔

چار اپریل 2016ء کو اُن کی بیٹی اور پی ڈی پی کی صدر محبوبہ مفتی کی قیادت میں پی ڈی پی اور بی جے پی کی مخلوط حکومت کی حلف برداری کے ساتھ ہی گورنر راج اپنے اختتام کو پہنچا تھا۔

لیکن منگل کو بی جے پی نے اچانک مخلوط حکومت سے علحیدہ ہونے کا اعلان کردیا تھا جس کے بعد وزیرِ اعلیٰ محبوبہ مفتی نے ریاستی اسمبلی میں اکثریت کھو دینے کی وجہ سے گورنر کو اپنا استعفیٰ پیش کردیا تھا۔

پی ڈی پی سمیت کسی بھی پارٹی کی جانب سے نئی حکومت تشکیل دینے میں دلچسپی نہ لینے پر گورنر ووہرا نے ریاست میں گورنر راج نافذ کرنے کی سفارش کی تھی جسے بھارتی صدر نے منظور کرلیا۔

بی جے پی نے ریاست میں اس کے بقول بنیاد پرستی اور دہشت گردی میں اضافے اور پی ڈی پی کی قیادت میں کام کرنے والی حکومت کی طرف سے صورتِ حال پر قابو پانے میں ناکامی کو حکمران اتحاد سے علیحدہ ہونے کی وجہ بتایا ہے۔

لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ بی جے پی ریاست کی حکومت میں برابر کی حصے دار تھی اور اگر صورتِ حال میں بگاڑ آیا ہے تو وہ خود کو اس سے بری الذمہ قرار نہیں دے سکتی۔

پی ڈی پی نے کہا ہے کہ اس نے بی جے پی کے ساتھ ریاست اور اس کے عوام کے مفاد میں اتحاد قائم کیا تھا حالانکہ اسے اس بات کا بھرپور احساس ہے کہ کشمیری مسلمانوں نے اسے ہرگز پسند نہیں کیا تھا۔

پی ڈی پی کی قیادت نے بی جے پی پر پیٹ میں چُھرا گھونپنے کا الزام بھی عائد کیا ہے۔

دونوں جماعتوں کی مخلوط حکومت مارچ 2015ء میں قائم ہوئی تھی اور ریاست کی تاریخ میں پہلی بار بی جے پی کو حکومت میں آنے کا موقع ملا تھا۔

دریں اثنا ریاست کے سابق وزیرِ اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے اسمبلی کو تحلیل کرکے ریاست میں نئے انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG