رسائی کے لنکس

logo-print

کارخانوں کے لیے سستی بجلی فراہم کرنے کا اعلان، صنعت کاروں کا ملا جلا ردِ عمل


فائل فوٹو

وزیرِ اعظم عمران خان کے صنعتوں کے لیے سستی بجلی فراہم کرنے کے اعلان پر پاکستان میں معروف صنعت کاروں نے ملے جلے ردِ عمل کا اظہار کیا ہے۔

صنعت کاروں کا کہنا ہے کہ کرونا وبا کے باعث صنعتوں کو جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے اس میں یہ پیکیج ہوا کا جھونکا تو ہے۔ لیکن حکومتی سطح پر اعلانات پر عمل درآمد سوالیہ نشان ہے۔

وفاقی حکومت کا مؤقف ہے کہ صنعتوں کو 24 گھنٹے آف پیک آرز بجلی فراہم کی جائے گی۔ پوری دنیا کساد بازاری سے گزر رہی ہے لیکن پاکستان صنعتی ترقی کی طرف گامزن ہے۔

وزیرِ اعظم عمران خان نے منگل کو صنعتوں کے لیے پیکیج کا اعلان کیا ہے جس کےمطابق یکم نومبر 2020 سے 30 جون 2021 تک چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں کو گزشتہ سال کے ان مہینوں کے بلوں سے زائد استعمال کی جانے والی بجلی پر 50 فی صد رعایت دی جائے گی۔ جب کہ چھوٹی بڑی تمام صنعتوں کو اگلے تین سال کے لیے گزشتہ سال کے بجلی بلوں سے زیادہ استعمال ہونے والی بجلی پر 25 فی صد رعایت ملے گی۔

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ یکم نومبر سے چھوٹی اور درمیانی صنعتوں کے لیے اضافی بجلی 50 فی صد کم ریٹ پر دیں گے۔ یعنی اب تک ان کا جو معمول کا بل آتا تھا۔ اس سے جو اضافی بجلی وہ استعمال کریں گے وہ انہیں آدھی قیمت پر ملے گی۔ یہ رعایت 30 جون 2021 تک کے لیے ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اسی طرح بلا تخصیص چھوٹی بڑی ساری صنعتوں کو آئندہ تین برس تک 25 فی صد کم نرخ پر اضافی بجلی دی جائے گی۔ اب کوئی پیک آوور نہیں ہو گا اور 24 گھنٹے آف پیک آوور ہوں گے۔

تجزیہ کار فرخ سلیم حکومتی مؤقف سے متفق نہیں ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ پیکیج اضافی بجلی یونٹ کے لیے ہے اور موجودہ حالات میں کوئی بھی مزید یونٹ نہیں لگا رہا۔ اس کے ساتھ ساتھ آئی ایم ایف کا پیکیج حاصل کرنے کے لیے پاکستان کو تمام سبسڈیز ختم کرنی ہوں گی اور بجلی پر سبسڈی بھی نہیں رہے گی۔

فرخ سلیم نے کہا کہ اس وقت ہمارا ٹیکسٹائل سیکٹر 100 فی صد پر چل رہا ہے۔ گزشتہ سال جو بجلی استعمال کی گئی اب اگر اس سے زیادہ بجلی استعمال کی جائے گی تو بجلی کے بل پر رعایت ملے گی۔ اس کا مطلب ہے کہ بجلی کے مزید استعمال کے لیے نئے پیداواری یونٹس لگائے جائیں لیکن کرونا کی وبا کی صورتِ حال میں سرمایہ کار مزید سرمایہ لگانے پر تیار نہیں ہیں۔ ایسے میں اس کا فائدہ کم ہی ملنے کا امکان ہے۔ اس وجہ سے ایسا نہیں لگتا کہ لوگ اپنے کاروبار کو توسیع نہیں دے رہے۔

2019 میں معیشت سنبھلی لیکن مہنگائی بڑھی
please wait

No media source currently available

0:00 0:03:11 0:00

ان کا کہنا تھا کہ پیکیج کی بنیاد سبسڈی پر ہے لیکن حکومت آئی ایم ایف سے مذاکرات بھی کرنے جا رہی ہے۔ ایسے میں آئندہ سال جون کے بعد سبسڈی دینا بھی ممکن نہیں ہو گا۔

البتہ پیک آرز کے خاتمے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس کا فائدہ یقیناً صنعت کاروں کو ہو گا۔

فرخ سلیم کے مطابق اس وقت پاکستان میں دو صنعتیں ترقی کر رہی ہیں جن میں ٹیکسٹائل اور تعمیرات کی صنعت شامل ہے۔ چین پر امریکہ کے اضافی ٹیکسز لگنے سے آرڈرز پاکستان کو مل رہے ہیں۔ اسی طرح تعمیرات کی صنعت پر بھی پیکیج ملنے کی وجہ سے تیزی ہے۔ سیمنٹ سمیت دیگر سیکٹرز تیزی سے کام کر رہے ہیں۔ لیکن اصل معاملہ آئی ایم ایف کا ہے۔ اس وقت دیا جانے والا پیکیج کرونا وائرس کے دنوں میں دیا جانے والا پیکیج ہے اور اسی میں سے ادائیگی ہو رہی ہے۔ لیکن جون 2021 میں آئی ایم ایف کے ساتھ ڈیل ہونے کی صورت میں سبسڈیز ختم کرنا ہوں گی۔

اس پیکیج کے بارے میں پاکستان کے معروف صنعت کار زبیر موتی والا کہتے ہیں کہ حکومتی سطح پر اعلانات تو کیے جاتے ہیں لیکن ان پر عمل درآمد سوالیہ نشان ہے؟

انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعظم نے جس پیکیج کا اعلان کیا ہے وہ آئندہ سال کے لیے ہے لیکن حکومت کو آئی ایم ایف سے بھی پیکیج کی منظوری لینی ہو گی۔

زبیر موتی والا نے کہا کہ 50 فی صد والی بات ہمیں سمجھ نہیں آ رہی۔ آج جو بجلی کا ریٹ ہے اس میں پیک آرز اور آف پیک آرز کے درمیان تین روپے کا فرق ہے۔ لیکن چند روز قبل ڈھائی روپے یونٹ کی قیمت میں اضافہ کیا گیا تھا اب اگر کم کر دیا گیا ہے تو کیا فرق پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی طرف سے یہ اعلان اس بات کا عندیہ ہے کہ حکومت ہماری بات کو سمجھ رہی ہے کہ ہم بین الاقوامی مارکیٹ سے مقابلہ نہیں کر پا رہے۔ کیوں کہ توانائی کی قیمت پاکستان میں بہت زیادہ ہے۔ اس وقت بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمتیں کم ہوئی ہیں لیکن پاکستان میں ایسا نہیں ہوا۔

صنعت کار جنید ماکڑا کہتے ہیں کہ بجلی کی قیمتیں کم کرنے سے پیداواری لاگت کم ہو گی اور عوام کو ریلیف ملے گا۔ لیکن کرونا وبا کے پیشِ نظر حکومت کو مزید اقدامات کرنے ہوں گے۔

'معیشت کی بہتری کے لیے اخراجات کم کرنا ہوں گے'
please wait

No media source currently available

0:00 0:03:28 0:00

انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتِ حال میں پیداواری لاگت میں کمی تو آئے گی لیکن عوام کو فوری ریلیف ملنا ممکن نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پیداواری لاگت پہلے ہی بہت زیادہ ہے اور مقابلے کی فضا میں بہتری کے لیے اس کمی کا فائدہ صنعت کار کو ہو گا اور ان کا اعتماد بحال ہو سکے گا۔

وفاقی حکومت کا مؤقف ہے کہ صنعتی ترقی سے بے روزگاری ختم ہو گی اور ملک میں معاشی استحکام آئے گا۔

وفاقی وزیرِ صنعت و پیداوار حماد اظہر کہتے ہیں کہ 24 گھنٹے آف پیک آرز پر بجلی فراہم کی جائے گی۔ پیک آرز میں صنعتوں کے لیے نرخ 25 فی صد بڑھ جاتا تھا۔ توقع ہے اب پیک آرز کی وجہ سے صنعتیں بند نہیں ہوں گی۔ پیک آرز کی مہنگی بجلی کی وجہ سے ماضی میں صنعتوں کو بند کر دیا جاتا رہا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG