رسائی کے لنکس

logo-print

امریکی حکومت کی بندش کا خطرہ ایک ہفتے کے لیے ٹل گیا


امریکی سینیٹ کے اکثریتی راہنما مچ کونیل ۔ فائل فوٹو

سینیٹ کے ری پبلیکن لیڈر مچ کونیل کا کہنا ہے کہ میں اس بارے میں کوئی قیاس آرائی نہیں کرنا چاہتا کہ آیا یہ معاملہ اس ہفتے واقعی طے ہو جائے گا لیکن ہم 30 ستمبر تک کوئی مستقل معاہدہ طے کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔

امریکی کانگریس اس ہفتے کے لیے کام پر واپس آ گئی ہے جو سرکاری خدمات کے لیے ایک اہم ہفتہ ثابت ہو سکتا ہے ۔ جمعرات کی صبح امریکی قانون سازوں نے ایک ٹریلین سے زیادہ ڈالر کے قلیل المیعاد اخراجات کے اس بل کی مہلت میں اضافہ کر دیا تھا جس کے لیے سینیٹ سے 29 اپریل تک بل کی منظوری یا پھر حکومت کی جزوی بندش کا خطرہ کھڑا ہو جاتا ۔ اس مہلت کے باوجود وائس آف امریکہ سے گفتگو کرنے والے ماہرین نے اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ اس بار حکومت کی اس قسم کی بندش کا اعادہ نہیں ہوگا جس صورت حال کا سامنا 2013 میں کرنا پڑا تھا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ متصادم ایجنڈے اتفاق رائے کو مشکل بھی بنا سکتے ہیں اور ضروری بھی۔

اگر قانون ساز اخراجات کے کسی نئے قلیل المیعاد معاہدے تک نہیں پہنچتے، جس کی مہلت میں اب ایک ہفتے تک کا اضافہ کر دیا گیا ہے، تو اس صورت میں غیر لازمی سرکاری خدما ت روک دی جائیں گی، ہزاروں سرکاری ملازموں کو کام سے چھٹی دے دی جائے گی اور لاکھوں ڈالرز کے چیکس اور ٹیکسوں کے ری فنڈز تاخیر کا شکار ہو جائیں گے۔

سینیٹ کے ری پبلیکن لیڈر مچ کونیل کا کہنا ہے کہ میں اس بارے میں کوئی قیاس آرائی نہیں کرنا چاہتا کہ آیا یہ معاملہ اس ہفتے واقعی طے ہو جائے گا لیکن ہم30 ستمبر تک کوئی مستقل معاہدہ طے کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اب جب کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ میکسیکو کے ساتھ ایک سرحدی دیوار کے لیے ابتدائی فنڈنگ کو زیر غور لانے کے لیے رضامند ہو گئے ہیں، زیادہ امکان یہ ہے کہ کوئی معاہدہ طے پا جائے گا۔ کانفرنس کے بورڈ کے رکن جو مینارک کا کہنا ہے کہ یہ ایک اعتراف ہے کہ جمہوریت میں مفاہمت ضروری ہوتی ہے۔

انہوں کے کہا کہ سینیٹ میں ضروری قانون کی منظوری کے لیے، انہیں 60 ووٹ درکار ہیں جو ری پبلیکن خود سے پورے نہیں کر سکتے ۔ اس لئے ڈیمو کریٹس کو اپنے ساتھ شامل کرنے کے لیے وہ ڈیمو کریٹس کو لازمی طور پر کچھ مراعات کی پیش کش کریں گے۔

لیکن ایک اور سیاسی مسئلہ بدستور باقی ہے ۔ ری پبلیکنز اخراجات کے بل سے ایفورڈ ایبل ایکٹ سے اخراجات میں شراکتی ادائیگیاں ختم کرانا چاہتے ہیں، ڈیمو کریٹس کہتے ہیں کہ یہ ایک ایسا اقدام ہے جس سے کم آمدنی والے لگ بھگ 60 لاکھ امریکی متاثر ہوں گے۔

بینک ریٹ ڈاٹ کام کے مارک حامرک نے اسکائپ کے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میرا خیال ہے کہ دنوں جماعتیں یہ سمجھتی ہیں کہ اگر ایسا ہوا تو ووٹر جن کی نظر میں پہلے ہی قانون سازوں کی قدرو منزلت کم ہو چکی ہے، اس میں مزید کمی کر دیں گے، اور اس لیے یہ سب سے بنیادی ہدف ہے جو حکومت کو حاصل کرنا چاہیے۔

سن 2013 میں معاملہ ایسا نہیں تھا جب مٹھی بھر ری پبلکن قانون سازوں نے حکومت کو سولہ دن کی بندش پر مجبور کر دیا تھا۔ جس کے نتیجے میں میوزیم، نیشنل پارکس اور غیر لازمی سرکاری سہولیات بند ہو گئی تھیں، اور اس سیاسی حربے سے امریکی ٹیکس دہندگان کو سہولیات کی محرومي کی وجہ سے لگ بھگ دو ارب ڈالر کا نقصان ہوا تھا۔ لیکن اس بار کوئی جماعت بھی الزام تراشی کا کھیل نہیں کھیلنا چاہتی۔

کانفرنس بورڈ کے جو مینارک کہتے ہیں کہ کبھی کبھی لوگ اس قسم کے کھیل میں بازی جیتنا چاہتے ہیں ۔ لیکن اس کھیل میں آخر کار نقصان امریکی لوگوں ہی کو ہوتا ہے۔ اس لیے وہ کوشش کریں گے اور کوئی مفاہمتی راستہ تلاش کریں گے اور اس مسئلے کو حل کریں گے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اخراجات کے بل کی منظوری یا مہلت میں توسیع میں ناکامی نئی انتظامیہ کے لیے بہت مہنگی ثابت ہو سکتی ہے ، جو اپنے پہلے سو دنوں میں حکومت کی کسی بندش کو شامل کرنے سے بظاہر ہچکچارہی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG