رسائی کے لنکس

logo-print

’آئی ایم ایف‘ کی قسط ادا نہ کرنے پر یونان نادہندہ قرار


یونان کے نادہندہ ہونے سے اس کی یوروزون کی رکنیت بھی خطرے میں ہے اور یوں یہ یورپی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دینے والا معاملہ ہو سکتا ہے۔

بین الاقوامی مالیاتی ادارے "آئی ایم ایف" کو 1.8 ارب ڈالر قرض کی ادائیگی کرنے میں ناکام رہنے والا ملک یونان باضابطہ طور پر نادہندہ ہو گیا ہے۔

یہ پہلا ترقی یافتہ ملک ہے جو اپنے ذمے واجب الادا قرض کی قسط واپس نہیں کر سکا۔

یورپی ملکوں کے وزرائے خزانہ نے منگل کو فیصلہ کیا تھا کہ وہ یونان کو مالی بحران سے بچانے کے لیے اس کے مالی پروگرام میں توسیع کریں اور اس کے لیے بدھ کو مزید بات چیت ہوگی۔

لیکن ہالینڈ کے وزیر خزانہ یرون ڈیسیلبلوم کا کہنا ہے کہ "اس پروگرام میں توسیع پاگل پن ہو گا۔"

یونان کی اب اگلی امید یہ ہے کہ آئی ایم ایف اس کے قرض کی معیاد میں اضافہ کے درخواست کو منظور کر لے۔

ایتھنز کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر قرض دینے والے ملک اور ادارے اس سے بات چیت کا نیا دور شروع کرنے پر آمادہ ہوں تو وہ اتوار کو اقتصادی اصلاحات سے متعلق اعلان کردہ ریفرنڈم کو منسوخ کرسکتا ہے۔

یونان کے نادہندہ ہونے سے اس کی یوروزون کی رکنیت بھی خطرے میں ہے اور یوں یہ یورپی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دینے والا معاملہ ہوسکتا ہے۔

یونان نے گزشتہ پانچ سالوں میں بہت قرض حاصل کیا لیکن اس کی حکومت یورپی یونین کی طرف سے اقتصادی اصلاحات کے مطالبات کو تسلیم کرنے میں ہچکچاتی رہی ہے۔

یونان کا کہنا ہے کہ اخراجات میں کٹوتی اور محصولات میں اضافے سے اس کے شہری پہلے ہی بہت کچھ برداشت کر چکے ہیں۔

ملک میں منگل کو بھی بنک اور بازار حصص بند رہے۔

ایسے میں جب ملک کا اقتصادی مستقبل غیر یقینی کا شکار ہے، یونان کے وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں بینکوں کی ایک ہزار شاخیں کھولی جائیں گی جس کا مقصد ایسے پینشنرز کو سہولت دینا ہے جن کے پاس رقم نکلوانے کے لیے خودکار مشین کا کارڈ نہیں ہے۔

XS
SM
MD
LG