رسائی کے لنکس

یونان: آٹھ ترک فوجیوں کی ملک بدری کی درخواست مسترد


ترک فوجی عہدیدار (درمیان میں) یونانا کی سپریم کورٹ آتے ہوئے۔

یونان کی سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں یہ کہتے ہوئے کہ بغاوت کی کوشش کے بعد بڑے پیمانے پر ہونے والی کارروائیوں کی وجہ سے ان کے حقوق کی خلاف ورزی کا اندیشہ ہے ، انقرہ کی ملک بدری کی درخواست کو مسترد کر دیا۔

یونان کی سپریم کورٹ نے ان آٹھ ترک فوجی عہدیداروں کو ترکی کے حوالے کرنے کی درخواست مسترد کر دی ہے جو گزشتہ سال جولائی میں ناکام فوجی بغاوت کے بعد ملک سے فرار ہو گئے تھے۔

یہ آٹھ فوجی عہدیدار جن میں تین میجر، تین کپتان اور دو سارجنٹ میجر شامل ہیں، ترکی میں ناکام فوجی بغاوت کے بعد 16 جولائی کو ایک ہیلی کاپٹر کے ذریعے ملک سے فرار ہو گئے تھے، بعدازں وہ شمالی یونان میں اتر گئے اور وہاں اُنھوں نے سیاسی پناہ طلب کی۔

یونان کی سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ بغاوت کی کوشش کے بعد ترکی میں بڑے پیمانے پر ہونے والی کارروائیوں کی وجہ سے ان کے حقوق کی خلاف ورزی کا اندیشہ ہے۔

ان فوجی عہدیداروں کے وکیل کرسٹوس مائیلونو پولوس نے کہا کہ "یہ یورپی اقدار اور یونان کے انصاف کی ایک عظیم فتح ہے۔"

اُنھوں نے کہا کہ "یہ صرف آٹھ فوجی عہدیداروں کی زندگی کا معاملہ نہیں تھا بلکہ یونان کے انصاف کے نظام کا بھی امتحان تھا۔"

ترکی کا اصرار ہے کہ یہ فوجی عہدیدار بغاوت کی کوشش میں ملوث تھے، انقرہ حکومت کا دعویٰ ہے کہ بغاوت کی کوشش کے پیچھے مبینہ طور پر امریکہ میں مقیم ترک مبلغ فتح اللہ گولن کا ہاتھ تھا۔

فتح اللہ گولن اس الزام کو مسترد کرتے ہیں۔

گزشتہ سال کی ناکام بغاوت کے بعد صدر رجب طیب اردوان نے ہزاروں کی تعداد میں فوجی خواتین و مرد اہلکاروں، سرکاری کارکنوں، اساتذہ اور حز ب مخالف کے گروپوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو گرفتار کر لیا جبکہ ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کو نوکریوں سے برخاست کیا جا چکا ہے۔

XS
SM
MD
LG