رسائی کے لنکس

logo-print

یونان کا قرض بحران سنگین، ریفرنڈم پانچ جولائی کو ہوگا


یورپی مرکزی بینک اس خدشے کے پیش نظر کہ شاید پیر کو یونان کے بینک اپنا کاروبار شروع نہ کر سکیں، اتوار کو ایک اجلاس کر رہا ہے

یونان کی پارلیمان نے وزیراعظم الیکسس سیپراس کی طرف سے قرض کے بحران سے نکلنے کے لیے مجوزہ اصلاحات پر پانچ جولائی کو ریفرنڈم کروانے کی منظوری دے دی۔

وزیراعظم نے قرضہ دینے والوں کی طرف سے بیل آوٹ کی پیشکش کو "تحقیر آمیز" قرار دیتے ہوئے عوام سے اسے مسترد کرنے کا کہا ہے۔

پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ "قرض دینے والوں کے لیے سچ پر مبنی دن آرہا ہے، ایسا وقت جب وہ دیکھیں گے کہ یونان جھکے گا نہیں، یونان کوئی کھیل نہیں جو ختم ہو گیا۔"

جمہوریت اور قومی وقار کے تناظر میں ان کا کہنا تھا کہ "مجھے یقین ہے کہ یونان کے عوام ان تاریخی حالات میں اٹھ کھڑے ہوں گے اور اس مدت متعین کرنے سے انکار کر دیں گے۔"

جمعہ کو یونان کے عہدیداروں نے مالی تعاون کے لیے متعین کردہ معیاد میں اضافے کے لیے مذاکرات کو یکطرفہ طور پر ختم کرتے ہوئے ریفرنڈم کا مطالبہ کیا تھا۔ یہ معیاد منگل کو ختم ہونے جا رہی ہے۔

بعد ازاں ہفتہ کو یوروزون کے وزرا نے بیل آوٹ پروگرام میں توسیع سے انکار کر دیا۔ یورو گروپ کے ارکان نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ " تمام عہدیدار اس بات کے لیے تیار ہیں کہ یورو علاقے میں معاشی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے جو کچھ بھی ضروری ہوا وہ کیا جائے گا۔"

یورپی مرکزی بینک اس خدشے کے پیش نظر کہ شاید پیر کو یونان کے بینک اپنا کاروبار شروع نہ کر سکیں، اتوار کو ایک اجلاس کر رہا ہے جب کہ جرمنی کا کہنا تھا کہ یوروزون اپنی مشترکہ کرنسی کے تحفظ کے لیے "سب کچھ" کرے گا۔

یونان کو یورپی یونین سے آٹھ ارب ڈالر بیل آوٹ کی قسط درکار ہے تاکہ وہ عالمی مالیاتی فنڈ کو تقریباً دو ارب ڈالر قرض کی رقم واپس کر سکے۔

XS
SM
MD
LG