رسائی کے لنکس

logo-print

گراوٴنڈ زیرو کے قریب مسجد کی تعمیر پر پاکستانی عوام کی آراء


"امریکا کے صدر براک اوباما کی جانب سے نائن الیون کے دہشت گرد حملوں کے مقام کے قریب بنائی جانے والی مسجد کے منصوبے کی حمایت قابل تعریف اقدام ہے۔ اس منصوبے سے مسلم دنیا میں پایا جانے والا یہ تاثر ختم ہوگا کہ امریکا مسلمانوں کے خلاف ہے ۔ نائن الیون کا واقعہ تمام مسلمانوں کے نظریات کی ترجمانی نہیں کرتا۔میرے خیال میں یہ حملہ صرف مخصوص ذہنیت رکھنے والوں کی کارروائی ہے ۔مسلمانوں کی اکثریت نہ صرف اس کی مذمت کرچکی ہے بلکہ اسے غیر اسلامی فعل بھی قرار دیاگیا تھا۔لہذا مسجد کی تعمیرضرور ہونی چاہئے۔ مسجد امریکا کو مسلم دنیا کے مزید قریب کردے گی۔"

امریکی ریاست نیویارک کے علاقے لوئر مین ہٹن میں واقع گراوٴنڈ زیرو یعنی سانحہ نائن الیون کی جگہ سے نہایت قریب ایک اسلامی سینٹر اور مسجد کی تعمیران دنوں امریکا بھر میں موضوع بحث بنی ہوئی ہے۔یہ مسجد 10کروڑ ڈالر کی لاگت سے تعمیر ہونے والے اسلامی سینٹر کا حصہ ہے جس میں 500نشستوں والا آڈیٹوریم، اسپورٹس کی سہولیات، تھیٹر اور ریستوران شامل ہوں گے۔
امریکی ٹی وی سی این این اس حوالے سے ناصرف باقاعدہ بحث نشرکرچکا ہے بلکہ اس حوالے سے اب تک متعدد پروگرام آن ائیر ہوچکے ہیں۔ سی این این ہی کیا اب تو پورے میڈیا میں یہ بحث چھڑی ہوئی ہے کہ گراوٴنڈ زیرو کے قریب مسجد تعمیر ہونی چاہئے یا نہیں۔ امریکی میڈیا اس حوالے سے مختلف لوگوں اور حوالوں سے ان کے نظریات پیش کررہا ہے۔
اس بحث میں جان اس وقت پڑی جب گزشتہ ہفتے امریکی صدر براک اوباما نے اس کی حمایت میں بیان دیا۔انھوں نے کہا کہ مسلمانوں کو ‘حق حاصل ہے کہ وہ لوئر مین ہٹن میں نجی املاک پر عبادت کی جگہ اور کمیونٹی سینٹر تعمیر کریں۔’ انھوں نے کہا کہ مذہبی آزادی کے بارے میں امریکا کا عزم ‘غیرمتزلزل ’ہے۔ صدر اوباما کے اس تبصرے کے بعد امریکی کانگریس کے نومبر کے انتخابات سے قبل، یہ تنازع قومی سطح کی بحث میں تبدیل ہو گیا ہے۔ صدر اوباما سمیت ڈیموکریٹک پارٹی نے آئین کے تحت مذہبی آزادی کو یقینی بناتے ہوئے گراوٴنڈ زیرو کے قریب اسلامی مرکزو مسجد بنانے کا دفاع کیا تھا جبکہ ریپبلکن جماعت کے اکثر رہنماوٴں اور کارکنوں نے اس کی شدید مخالفت کی ہے۔
امریکی صدر کی موجودہ پالیسی میں پاکستان اور پاکستانی عوام کو نہایت اہمیت حاصل ہے لہذا اب یہ سوچنا بھی اہمیت سے خالی نہ ہوگا کہ مسجد اور اسلامی سینٹر کی تعمیر کے بارے میں پاکستانی عوام کیا نظریات یا خیالات رکھتی ہے۔ پاکستانی عوام کی رائے جاننے کے لئے وائس آف امریکا کے اس نمائندے نے مختلف طبقہ ہائے زندگی سے ملاقات کی ۔ ان کی رائے کو ذیل میں من و عن پیش کیا جارہا ہے:
زبیر محمد پیشے کے اعتبار سے کنسٹرکشن کے کاروبار سے منسلک ہیں۔ بین الاقوامی تعلقات میں ایم اے کیا ہے ۔ انہوں نے اپنی رائے کا اظہار ان الفاظ میں کیا: امریکا کے صدر براک اوباما کی جانب سے نائن الیون کے دہشت گرد حملوں کے مقام کے قریب بنائی جانے والی مسجد کے منصوبے کی حمایت قابل تعریف اقدام ہے۔ اس منصوبے سے مسلم دنیا میں پایا جانے والا یہ تاثر ختم ہوگا کہ امریکا مسلمانوں کے خلاف ہے ۔ نائن الیون کا واقعہ تمام مسلمانوں کے نظریات کی ترجمانی نہیں کرتا۔میرے خیال میں یہ حملہ صرف مخصوص ذہنیت رکھنے والوں کی کارروائی ہے ۔مسلمانوں کی اکثریت نہ صرف اس کی مذمت کرچکی ہے بلکہ اسے غیر اسلامی فعل بھی قرار دیاگیا تھا۔لہذا مسجد کی تعمیرضرور ہونی چاہئے۔ مسجد امریکا کو مسلم دنیا کے مزید قریب کردے گی۔
علی محمد ناصر ایک پرائیوئٹ کمپنی میں ملازمت کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ے کہ جب امریکا میں ہر مذہب کے ماننے والوں کو اپنی عبادت گاہیں بنانے کا آئینی حق حاصل ہے تو محض مسلمانوں کی مسجد کے معاملے پر ہی کیوں اتنا ہنگامہ برپا کیا جارہا ہے؟
فضل الحق ناتق، معلم ہیں ۔ انہوں اپنی رائے اس طرح دی: امریکا ایک طرف تو مذہبی آزادی و روداری کے دعوے کرتا نہیں تھکتا اور دوسری جانب مسجد کے منصوبے کی مخالفت کرنے والوں کا مسلمانوں سے یہ امتیازی سلوک سمجھ سے بالاتر ہے۔ میرا تو خیال ہے کہ اگر امریکا دہشت گردی کے جذبات کو جڑ ھی سے ختم کرنا چاہتا ہے تو اسے فوری طور پر یہ مسجد تعمیر کردینی چاہئے بصورت دیگر مخصوص سوچ رکھنے والوں کی مخالفت اور نفرت کا ایک اور موقع مل جائے گا۔
منیب کراچی یونیورسٹی سے صحافت میں ایم اے کررہے ہیں۔ ان کے خیال میں :یہ سب چائے کی پیالی میں طوفان اٹھانے کے مترادف ہے۔ امریکا میں اس سال نومبر میں انتخابات ہونے جارہے ہیں اور ری پبلکن اپنی روایت کے مطابق امریکیوں میں مسلمانوں کا خوف بیدار کرکے ان کے ووٹس ہتھیانا چاہتے ہیں اور کچھ ڈیموکریٹس بھی جنہیں اپنی سیٹس خطرے میں نظر آتی ہیں ان کی آواز میں آواز ملا رہے ہیں۔ یہ لوگ نائن الیون کا خوف بیدار کرکے اس کی باقیات پہ ووٹ لینا چاہتے ہیں اور اپنے اس مفاد کے لیے یہ امریکی معاشرے کو تقسیم کر رہے ہیں۔اگر اب دانستہ مسجد کا منصوبہ ترک ہوا تو یہ عمل مسلمانوں میں امریکا دشمنی اور امریکیوں میں مسلم دشمنی کو فروغ دے گا۔
فرحان عباسی ، کمپیوٹر کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد ایک نجی ٹی وی سے وابستہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکامسجد کی تعمیر سے مسلمانوں میں اپنا امیج بہتر بنا سکتا ہے ۔اگر امریکا نے یہ موقع گنوادیا تو اس کایہ اقدام مسلم دنیا میں انتہا پسندی کے فروغ کا سبب بن سکتا ہے۔
سیما عباسی، ڈرامہ نگار ہیں ۔ وہ کہتی ہیں : ذرا آپ اس منظر کو الٹا کرکے دیکھئے۔ فرض کیجیے پاکستان میں بسنے والے عیسائی کسی مقام پر چرچ بنانا چاہتے ہوں اور انہیں اگر پاکستان کی حکومت یا عوام کی جانب سے اس طرح کی مزاحمت کا سامنا ہو تو امریکا اور مغربی دنیا کا ردِ عمل کیا ہوگا اور ہمیں کیا کیا کچھ نہیں کہا جائے گا۔ محض یہ تقابل ہی میری سوچ کی ترجمانی کرتا ہے۔
شارجہ سے کراچی آئے ہوئے مسٹر اینڈ مسز نعیم پرویز نے اپنا موقف بیان کرتے ہوئے کہا: اسلام ایک امن پسند مذہب ہے۔ جو پیار محبت کا درس دیتا ہے ۔اسلام میں بھائی چارہ اور حقوق العباد کی بہت اہمیت ہے۔ صدر اوباما کی جانب سے مسجد کے منصوبے کی حمایت سے مسلمانوں میں امریکی حکومت کی ساکھ میں بھی اضافہ ہوگا کیونکہ صدر اوباما کے جامعہ الازہر میں خطاب کے بعد عملی اقدامات کی یہ بہترین مثال ہوگا۔
راجہ سرفراز مجاہد کراچی میں ایک اسپتال کے مالک ہیں ۔ انہوں نے کہا: مسجد کا یہ منصوبہ ضرور مکمل ہونا چاہیے اگر کسی بھی وجہ سے اسے روکا گیا یا ملتوی کیا گیا تو اس سے مسلمانوں میں منفی تاثر ابھرے گا۔

XS
SM
MD
LG