رسائی کے لنکس

گوانتانامو کھلا رکھنے سے ’امریکی تشخص متاثر ہو گا‘: پاکستانی قانون ساز


ٹرمپ کے اس اعلان پر پاکستان کی حکومت کی طرف سے تو فوری طور پر کوئی ردِ عمل سامنے نہیں آیا ہے البتہ پارلیمان کے ایوانِ بالا کے دو اراکین نے کہا ہے کہ اس طرح کے اقدام سے امریکہ کے تشخص کو دھچکا لگے گا۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے اسٹیٹ آف دی یونین خطاب میں کہا ہے کہ اُنھوں نے ایک ایگزیکٹو حکم نامے پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت خلیجِ گوانتانامو میں واقع حراستی مرکز کھلا رکھنے امکان کا جائزہ لینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

امریکہ کے سابق صدر براک اوباما نے 2009ء میں کیوبا میں قائم گوانتانامو کے حراستی مرکز کو بند کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن کانگریس میں اس معاملے پر اختلاف کے باعث اس منصوبے پر مکمل عمل درآمد نہیں ہو سکا۔

البتہ اس حراستی مرکز میں موجود بیشتر قیدیوں کو رہا یا ان کے آبائی ملکوں کے حوالے کیا جا چکا ہے۔

لیکن منگل کی شب اپنے خطاب میں صدر ٹرمپ نے گوانتابو کے حراستی مرکز کو کھلا رکھنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ داعش اور القاعدہ کے خلاف جنگ میں ہمیں دہشت گردوں کو حراست میں رکھنے کے لیے تمام ضروری طریقوں کو جاری رکھنا ہو گا۔

ٹرمپ کے اس اعلان پر پاکستان کی حکومت کی طرف سے تو فوری طور پر کوئی ردِ عمل سامنے نہیں آیا ہے البتہ پارلیمان کے ایوانِ بالا کے دو اراکین نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا ہے کہ اس طرح کے اقدام سے امریکہ کے تشخص کو دھچکا لگے گا۔

'گوانتانامو کھلا رکھنے سے دنیا میں امن نہیں ہوگا'
please wait

No media source currently available

0:00 0:01:29 0:00

امریکہ میں پاکستان کی سابق سفیر اور پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والی سینیٹر شیری رحمٰن نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ گوانتانامو کو کھلا رکھنے کی پالیسی سابق صدر براک اوباما کی جانب سے اس حراستی مرکز کو بند رکھنے کے اعلان کے خلاف ہے۔

’’یہ امریکہ کی اپنی ساکھ، شناخت اور تشخص کا بھی مسئلہ بنے گا کیونکہ قوت صرف عسکری پاور نہیں ہوتی۔ امریکہ کی شہرت، اس کی کشش، اس کی اہمیت ساری دنیا میں بے شک ملڑی پاور ہے لیکن اس (امریکہ) کی کشش جو لوگوں کے لیے تھی وہ یہ سافٹ پاور تھی۔۔۔ وہ اس بنیاد پر کہ اس کا فلسفہ فریڈم اور آزادی پر ہے۔۔۔ امریکہ دنیا کے سارے امیگرینٹس کو ضم کرتا ہے، لوگوں کو ویلکم کرتے ہیں جو دنیا کے پسماندہ لوگ ہیں۔‘‘

شیری رحمٰن کا کہنا تھا کہ جب انسانی حقوق سے ہٹ کر کوئی بات امریکہ کی طرف سے ہوتی ہے تو اس پر پوری دنیا میں سوال اٹھتے ہیں۔

’’ان کے اپنے سوشل عمرانی معاہدے ہیں۔ یہ سارے اس وقت سوال ہو رہے ہیں اور یہ تو امریکہ کی اپنی سوسائٹی کے لیے بہت بڑی ایک خلیج پیدا ہوتی ہے جہاں یہ سارے سوال اٹھ رہے ہیں اور لوگوں میں بہت غم و غصے کا اظہار ہوتا ہے۔‘‘

حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے سینیٹر اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار کے چیئرمین لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ عبدالقیوم نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے ہوتے ہوئے گوانتانامو کے حراستی مرکز کو کھلا رکھنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔

’’امریکہ زبردست قوم ہے۔ اس میں کسی کو شک نہیں اور اُن کی اعلٰی اخلاقی اقدار ہیں۔ لیکن اُن کی قیادت کو بھی چاہیے کہ وہ اس کا ثبوت دیں۔۔۔ اگر آپ (گوانتانامو کو کھلا رکھیں گے) تو اس سے امن نہیں آئے گا، تفرقہ مزید بڑھے گا۔‘‘

امریکہ کے سابق صدر جارج ڈبلیو بش نے امریکہ پر نائن الیون کے دہشت گرد حملوں کے بعد کیوبا میں گوانتانامو کا حراستی مرکز کھولنے کا حکم دیا تھا۔

سولہ سال قبل کھلنے والے اس حراستی مرکز میں اب بھی مختلف ملکوں سے تعلق رکھنے والے 41 قیدی موجود ہیں جب کہ 2002ء کے بعد سے اب تک یہاں 700 قیدیوں کو رکھا گیا جن میں سے بیشتر کو بعد میں چھوڑ دیا گیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG