رسائی کے لنکس

گوانتانامو میں قید پاکستانی پر مشرف پر قاتلانہ حملے کی سازش کا الزام


گوانتانامو میں قید پاکستانی پر مشرف پر قاتلانہ حملے کی سازش کا الزام
گوانتانامو میں قید پاکستانی پر مشرف پر قاتلانہ حملے کی سازش کا الزام

گوانتانامو کے جنگی جرائم کی عدالت کے امریکی استغاثہ نے ایک پاکستانی پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے القاعدہ کے ساتھ مل کر امریکی اہداف پر حملوں اور سابق پاکستانی صدر پرویز مشرف کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔

ماجد خان پر الزام ہے کہ وہ 2002ء میں بارودی جیکٹ پہن کر کراچی کی اس مسجد میں بیٹھا ہوا تھا جہاں پرویز مشرف کی آمد متوقع تھی۔ اس نے خودکش حملہ کرکے مشرف کو ہلاک کرنے کا منصوبہ بنایا تھا لیکن سابق صدر کے وہاں نہ آنے پر یہ منصوبہ ناکام ہوگیا۔

استغاثہ کا کہنا ہے کہ 31 سالہ ماجد خان القاعدہ کا رکن ہے جو براہ راست خود کو ستمبر 11 کے امریکہ پر حملوں کا منصوبہ ساز کہنے والے خالد محمد شیخ کے ماتحت تھا۔

خان پر یہ بھی الزام ہے کہ اس نے القاعدہ کے ساتھ مل کر انڈونیشیا میں ایسے بارز، کیفے اور نائٹ کلبز پر بم حملے کرنے کی سازش کی تھی جہاں زیادہ تر غیر ملکیوں کا آنا جانا تھا۔

الزامات ثابت ہونے پر ماجد خان کو زیادہ سے زیادہ عمر قید کی سزا ہوسکتی ہے۔

ماجد خان 1996 میں امریکہ میں بالٹی مور کے علاقے میں اپنے خاندان کے ساتھ آیا اور یہاں اپنے گھروالوں کے پٹرول پمپ پر کام کرتا رہا۔ 2002ء میں پاکستان آنے پر اس کا تعارف خالد محمد شیخ سے ہوا اور استغاثہ کے بقول اسے نے شیخ کے لیے کام کرنا شروع کیا۔

مارچ 2003ء میں خان کو پاکستان سے گرفتار کیا گیا اور تین سال تک امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کی حراست میں رکھنے کے بعد 2006ء میں اسے کیوبا میں امریکی قیدخانے گوانتا نامو میں منتقل کردیا گیا۔

استغاثہ نے یہ الزامات گوانتانامو کے مقدمات کی نگرانی کرنے والے ریٹائرڈ ایڈمرل کے سامنے پیش کیے ہیں جن کی منظوری کے بعد کسی پر مقدمہ چلایا جاسکے گا۔

XS
SM
MD
LG