رسائی کے لنکس

گلالئی اسماعیل اور اُن کے والدین 'ٹیرر فنانسنگ' الزامات سے بری


پروفیسر اسماعیل (فائل فوٹو)

پشاور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے سماجی کارکن اور پشتون تحفظ تحریک (پی ٹی ایم) کی رہنما گلالئی اسماعیل اور اُن کے والدین کو دہشت گردوں کی مالی معاونت کے الزامات سے بری کر دیا ہے۔

جمعرات کو انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج اصغر علی شاہ نے ٹھوس شواہد نہ ہونے پر گلالئی اسماعیل اور اُن کے والدین کے خلاف مقدمہ خارج کیا۔

عدالت میں گلالئی اسماعیل اور ان کے والدین کی پیروی فضل الہٰی ایڈوکیٹ اور شہاب خٹک ایڈوکیٹ نے کی۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی درخواست پر گلالئی اسماعیل، ان کے والد پروفیسر اسماعیل اور والدہ کے خلاف یہ مقدمات گزشتہ سال درج کیے گئے تھے۔

جمعرات کو سماعت شروع ہوئی تو عدالت نے سرکاری وکیل سے شواہد پیش کرنے کا کہا جس پر گلالئی اسماعیل کی اسلام آباد میں ایک تقریر کا ویڈیو کلپ عدالت میں پیش کیا گیا۔

جج اصغر علی شاہ نے کہا کہ اظہار رائے کا حق ہر پاکستانی شہری کو ہے۔ لہذٰا اس تقریر کو بطور ثبوت استعمال نہیں کیا جا سکتا جس کے بعد عدالت نے مقدمہ خارج کرتے ہوئے ملزمان کو الزامات سے بری کر دیا۔

گلالئی اسماعیل پر یہ الزام تھا کہ وہ اپنی این جی اوز کی آڑ میں ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔

خیال رہے کہ گلالئی اسماعیل کئی سال سے خیبرپختونخوا میں خواتین کے حقوق کے لیے 'اویئر گرلز' کے نام سے تنظیم چلاتی تھیں۔

پولیس کی جانب سے گزشتہ سال گلالئی اسماعیل کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے بھی مارے گئے تھے۔ لیکن ستمبر 2019 میں وہ پراسرار طور پر امریکہ پہنچنے میں کامیاب ہو گئی تھیں۔

گلالئی اسماعیل صوابی میں پیدا ہوئیں اُنہوں نے 2002 میں قائد اعظم یونیورسٹی سے فلسفہ میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG