رسائی کے لنکس

logo-print

خلیجی ممالک میں تارکینِ وطن کی حفاظت یقینی بنانے کی اپیل


انسانی حقوق کیلیے کام کرنے والی ایک بین الاقوامی تنظیم نے سعودی عرب، کویت اور اردن پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے ہاں ملازمت کی غرض سے مقیم تارکینِ وطن کی حفاظت کو یقینی بنانے کیلیے اقدامات اٹھائیں۔

واضح رہے کہ حال ہی میں خلیجی ممالک میں گھریلو کام کاج انجام دینے والی سری لنکن خواتین کی طرف سے اپنے عرب مالکان کی جانب سے تشدد کا نشانہ بنائے جانے اور دیگر مظالم ڈھانے کی کئی شکایات سامنے آئی ہیں۔

رواں ماہ کے آغاز میں دو تارکِ وطن سری لنکن خواتین نے اپنے کویتی اور اردنی مالکان پر جسمانی تشدد کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔ گھریلو کام کاج کرنے والی ان دونوں خواتین کا کہنا تھا کہ ان کے مالکان نے سزا کے طور پر ان کے ناخن اکھاڑے اور انہیں مار پیٹ کا نشانہ بنایا۔

جبکہ اگست کے مہینے میں ایسا ہی ایک واقعہ سعودی عرب میں بھی رپورٹ ہوا تھا جہاں سری لنکا ہی سے تعلق رکھنے والی ایک ملازمہ نے اپنے عرب مالک پر بہیمانہ جسمانی تشدد کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔ سری لنکن ملازمہ کا کہنا تھا کہ اس کے مالک نے اسے اپنے ناخنوں سے نوچا تھا اور اس کے جسم میں کیلیں ٹھونکیں تھیں۔ تاہم سعودی حکام نے تارکِ وطن خاتون کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ وہ اپنے عرب مالک کو بلیک میل کرکے اس سے رقم بٹورنا چاہتی تھی۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم "ہیومن رائٹس واچ" کی جانب سے منگل کے روز جاری کیے گئے ایک بیان میں الزامات کی یکسانیت کو تشویش ناک قرار دیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ متاثرہ خواتین کی جانب سے ان پر بغیر کسی وجہ کے کیے گئے بہیمانہ تشدد کی تفصیلات پریشان کن ہیں جن کی تحقیقات کی جانی چاہئیں۔

تقریباً 15 لاکھ کے لگ بھگ سری لنکن باشندے جن کی اکثریت خواتین پر مشتمل ہے مختلف ممالک میں روزگار کی غرض سے مقیم ہیں۔ ان تارکینِ وطن کی ایک بہت بڑی تعداد مشرقِ وسطیٰ میں رہائش پذیر ہے۔

XS
SM
MD
LG