رسائی کے لنکس

logo-print

جلال آباد میں حملہ، جاپانی امدادی کارکن اور 5 ساتھی ہلاک


فائل

مشرقی افغانستان میں نامعلوم مسلح افراد نے حملہ کرکے ایک جاپانی امدادی کارکن اور ان کے پانچ ساتھیوں کو ہلاک کردیا ہے۔

افغان حکام نے بتایا ہے کہ یہ حملہ بدھ کی صبح صوبہ ننگرہار کے دارالحکومت جلال آباد میں پیش آیا۔

صوبائی حکومت کے ترجمان نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ڈاکٹر تیتو نکامورا اور جاپان میڈیکل سروسز (جے ایم ایس) سے تعلق رکھنے والے ارکان پر اس وقت حملہ کیا گیا جب وہ پراجیکٹ سائٹ جارہے تھے۔ جے ایم ایس غیر سرکاری تنظیم ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ غیر سرکاری تنظیم کے سربراہ نکامورا شدید زخمی ہوئے۔ انھیں شہر کے اسپتال لے جایا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔ ہلاک ہونے والوں میں ان کے افغان ڈرائیور اور سیکورٹی گارڈ شامل ہیں۔

جاپانی وزیراعظم شنرو آبے نے طویل عرصے تک افغانستان میں خدمات انجام دینے پر نکامورا کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ انھوں نے ٹوکیو میں اخباری نمائندوں کو بتایا کہ نکامورا کی ہلاکت کا سن کر انھیں انتہائی افسوس ہوا ہے۔

افغانستان میں اقوام متحدہ کے مشن نے ڈاکٹر نکامورا کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ ایک بیان میں کہا گیا کہ ’’یہ ایک ایسے شخص کا بہیمانہ قتل ہے جس نے اپنی زندگی ضرورت مند افغانوں کے لیے وقف کر رکھی تھی۔‘‘

طالبان نے ایک مختصر بیان میں اس حملے میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔ ننگرہار میں طالبان اور داعش، دونوں سرگرم ہیں۔

عینی شاہدین نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ حملے میں کم از کم تین حملہ آور شامل تھے، جو فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

افغان صدر اشرف غنی نے کچھ عرصہ پہلے ڈاکٹر نکامورا کو افغانستان کی اعزازی شہریت دینے کا اعلان کیا تھا۔ 73 سالہ ڈاکٹر نکامورا نے ایک دہائی تک افغانستان میں بے لوث خدمات انجام دیں۔ ان کے جاپانی پیش رو کو بھی اغوا کے بعد ہلاک کیا گیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG