رسائی کے لنکس

logo-print

'کئی بار لگا کہ موت قریب ہے': طالبان کی قید سے رہائی پانے والے پروفیسر کا بیان


ٹموتھی ویکس

افغان طالبان کی قید سے حال ہی میں رہائی پانے والے آسٹریلوی پروفیسر ٹموتھی ویکس نے کہا ہے کہ قید میں رہتے ہوئے انہوں نے امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا اور امید کے بل پر ہی انہوں نے اس آزمائش کا سامنا کیا۔

افغان حکومت کی جانب سے حقانی گروپ کے تین قیدیوں کی رہائی کے بدلے طالبان نے حال ہی میں ایک امریکی اور ایک آسٹریلوی پروفیسر کو رہا کیا تھا۔ ٹموتھی ویکس انہی میں سے ایک ہیں۔

اپنی رہائی کے بعد اتوار کو پہلی بار کسی عوامی پلیٹ فارم پر بیان دیتے ہوئے ٹموتھی ویکس نے قید کے دوران درپیش حالات بیان کیے ہیں۔

یاد رہے کہ آسٹریلوی پروفیسر ٹموتھی ویکس اور ان کے ساتھ ایک امریکی شہری کیون کنگ کو طالبان نے اگست 2016 میں اغوا کیا تھا۔ ویکس اور کنگ دونوں کابل میں قائم امریکی یونیورسٹی میں پروفیسر تھے اور اُنہیں اسی جامعہ کے باہر سے اغوا کیا گیا تھا۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق ٹموتھی کی عمر اب 50 برس ہو چکی ہے۔ وہ جمعرات کو اپنے وطن آسٹریلیا واپس پہنچے اور رہائی کے بعد ان کا ایک بیان اتوار کو نشر کیا گیا۔

ٹموتھی ویکس اور کیون کنگ کی اغوا ہونے کے بعد ایک ویڈیو بھی سامنے آئی تھی جس میں دونوں پروفیسرز نے اپنے رہائی کے اقدامات کرنے کی اپیل کی تھی۔ (فائل فوٹو)
ٹموتھی ویکس اور کیون کنگ کی اغوا ہونے کے بعد ایک ویڈیو بھی سامنے آئی تھی جس میں دونوں پروفیسرز نے اپنے رہائی کے اقدامات کرنے کی اپیل کی تھی۔ (فائل فوٹو)

اس دوران ٹموتھی ویکس کافی جذباتی دکھائی دیے اور انہوں نے کہا کہ اس لمبی اور اذیت ناک آزمائش نے ان کی زندگی پر گہرا اثر ڈالا ہے۔

انہوں نے کہا کہ "اسیری کے دنوں میں بعض اوقات مجھے محسوس ہوتا تھا کہ اب شاید میری موت قریب ہے اور میں ان لوگوں کو دوبارہ کبھی نہیں دیکھ سکوں گا جن سے میں پیار کرتا ہوں۔"

ٹموتھی ویکس کے بقول "میں آج صرف خدا کی وجہ سے یہاں موجود ہوں۔ میں زندہ اور محفوظ ہوں اور میں آزاد ہوں۔ اس کے علاوہ مجھے دنیا کی اور کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے۔"

ٹموتھی نے کہا کہ اگر آپ امید چھوڑ دیں تو آپ کے لیے ہر چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی ختم ہو جاتی ہے۔ میں نے اپنی اسیری کے دنوں میں امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔

انہوں نے کہا کہ اُنہیں اور کنگ کو چھڑانے کے لیے تقریباً چھ مرتبہ کوششیں کی گئیں جس میں کامیابی نہ مل سکی۔

ٹموتھی کا کہنا تھا کہ "ایک مرتبہ ہمیں رات دو بجے اٹھا کر سرنگوں میں لے جایا گیا اور بتایا گیا کہ داعش کے کچھ لوگوں نے حملہ کر دیا ہے۔ لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ امریکہ کے خصوصی دستوں نے ہماری رہائی کے لیے آپریشن کیا تھا۔"

ٹموتھی ویکس کے بقول، "ہمیں ہماری توقعات کے عین مطابق رکھا گیا۔ قید کے دوران ہمیں مختلف جگہوں پر منتقل کیا جاتا رہا اور کبھی کبھی تاریک جگہوں پر بھی رکھا جاتا تھا۔"

ویکس نے کہا کہ "مجھے ان لوگوں سے نفرت نہیں جو ہم پر نظر رکھتے تھے۔ میرے لیے تو وہ سپاہی تھے اور سپاہی اپنے کمانڈر کے احکامات کی تعمیل کرتے ہیں۔ اس کے سوا ان کے پاس اور کوئی راستہ نہیں ہوتا۔"

ٹموتھی ویکس کے بقول ان کی نگرانی پر مامور افراد میں سے کچھ لوگ تو انتہائی شفقت پسند، اچھے اور خوبصورت لوگ تھے اور انہوں نے مجھے ان کے بارے میں سوچنے پر مجبور کیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG