رسائی کے لنکس

ایران میں پارلیمان اور آیت اللہ خمینی کے مزار پر حملے، 12 ہلاک


ایران کے دارالحکومت تہران میں مسلح افراد کے ایرانی پارلیمان اور آیت اللہ خمینی کے مزار پر حملوں کے نتیجے میں کم از کم 12 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے ہیں۔

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق دونوں حملے بدھ کی صبح تقریباً ایک گھنٹے کے وقفے سے کیے گئے۔ ایران کی سرکاری نیوز ویب سائٹ میزان آن لائن نے ہنگامی حالات کے محکمے کے سربراہ پیر حسین کولی واند کے حوالے سے بتایا ہے کہ حملوں میں 12 افراد ہلاک اور 42 زخمی ہوئے ہیں۔

حملے کا آغاز بدھ کی صبح تہران میں واقع ایرانی پارلیمان کی عمارت سے ہوا جہاں کلاشنکوفوں سے مسلح کم از کم چار حملہ آوروں نے عمارت میں گھس کر فائرنگ کردی۔

ایران کے سرکاری ٹی وی کے مطابق ایک حملہ آور نے پارلیمان کی عمارت میں جاری ایک اجلاس کے کمرے میں گھس کر خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔

ایران کے نائب وزیرِ خارجہ محمد حسین ذوالفغاری نے سرکاری ٹی وی کو بتایا ہے کہ حملہ آوروں نے خواتین کا بھیس بدلا ہوا تھا۔

ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی 'تسنیم' کے مطابق پارلیمان پر حملہ کرنے والے چاروں مسلح افراد سکیورٹی فورسز کی ایک گھنٹے تک جاری رہنے والی جوابی کارروائی میں مارے گئےہیں۔

پارلیمان میں موجود ایک صحافی کے مطابق اس نے دو افراد کو عمارت کے اندر اندھا دھند فائرنگ کرتے دیکھا۔ بعض عینی شاہدین کے مطابق ایک حملہ آور نے پارلیمان کی عمارت کی چوتھی منزل کی کھڑکی سے نیچے موجود راہ گیروں پر بھی فائرنگ کی۔

حملے کے بعد ایرانی سکیورٹی فورسز کے ہیلی کاپٹر پارلیمان کی عمارت پر پرواز کرتے رہے جب کہ عمارت میں موبائل سروس بند کردی گئی۔

ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی 'فارس' کے مطابق پارلیمان پر حملے کے تقریباً ایک گھنٹے بعد مسلح افراد کے ایک اور گروپ نے تہران کے نواح میں واقع ایرانی انقلاب کے بانی آیت اللہ خمینی کے مزار پر حملہ کیا۔

ایک مقامی عہدیدار نے ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے 'ارنا' کو بتایا ہے کہ ایک حملہ آور نے خود کو مزار کے اندر دھماکے سے اڑا لیا جب کہ دوسرا مزار کی محافظوں کی فائرنگ سے مارا گیا۔

پولیس نے مزار سے ایک خاتون کو حراست میں لینے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔

آیت اللہ خمینی ایران میں 1979ء میں آنے والے اسلامی انقلاب کے بانی اور ملک کے پہلے سپریم لیڈرتھے جن کے مزار پر حملے کی علامتی اہمیت بہت زیادہ ہے۔

ذمہ داری داعش نے قبول کرلی

مشرقِ وسطیٰ میں سرگرم شدت پسند تنظیم داعش نے حملوں کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔ انٹرنیٹ پر جاری ایک بیان میں داعش نے کہا ہے کہ دونوں حملے اس کے جنگجووں نے کیے ہیں۔

داعش کی نیوز ایجنسی 'عمق' نے انٹرنیٹ پر ایرانی پارلیمان پر حملے کی 24 سیکنڈ کی ایک ویڈیو بھی جاری کی ہے جس میں ایک مسلح شخص اور زمین پر خون میں لت پت پڑے ایک شخص کو دیکھا جاسکتا ہے۔

ایرانی پارلیمان کی فائل فوٹو
ایرانی پارلیمان کی فائل فوٹو

ویڈیو میں ایک شخص عربی میں خدا کی حمد بیان کرتے ہوئے کہہ رہا ہے کہ "کیا تم سمجھتے ہو کہ ہم چلے جائیں گے؟ اللہ نے چاہا تو ہم باقی رہیں گے۔"

ایرانی حکام نے تاحال داعش کے دعوے پر کوئی ردِ عمل ظاہر نہیں کیا ہے۔ اگر داعش کا دعویٰ درست ثابت ہوا تو ایران کے اندر شدت پسند تنظیم کی کارروائی کا یہ پہلا واقعہ ہوگا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG