رسائی کے لنکس

عراق: بغداد سے خاتون صحافی اغوا


عراق کے دارالحکومت بغداد کی ایک شاہراہ پر سکیورٹی اہلکار گاڑیوں کی تلاشی لے رہے ہیں
عراق کے دارالحکومت بغداد کی ایک شاہراہ پر سکیورٹی اہلکار گاڑیوں کی تلاشی لے رہے ہیں

افرح کا شمار عراق کی نمایاں ترین صحافیوں میں ہوتا ہے جو عراقی حکام کی بدعنوانی پر کڑی تنقید کرتی رہی ہیں۔

عراق کی حکومت پر تنقید کرنے والی ایک خاتون صحافی کو مسلح افراد نے دارالحکومت بغداد میں واقع ان کے گھر سے اغوا کرلیا ہے۔

صحافیوں کی ایک مقامی تنظیم کے مطابق خود کو سرکاری سکیورٹی فورسز کا اہلکار بتانے والے آٹھ مسلح افراد نے افرح شوق القیسی کے گھر پر پیر کی رات دھاوا بولا اور گھر میں موجود افراد کو تشدد کا نشانہ بنایا۔

بعد ازاں مسلح افراد خاتون صحافی کو اپنے ساتھ لے گئے جن کا تاحال پتا نہیں چل سکا ہے۔ عراقی حکام کا کہنا ہے کہ وزیرِاعظم حیدر العبادی نے سکیورٹی فورسز کو افرح کو تلاش کرنے اور واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

عراقی تنظیم 'جرنلسٹک فریڈمز آبزرویٹری' کے مطابق افرح کے گھر میں گھسنے والے مسلح افراد نے لوٹ مار بھی کی اور اپنے ہمراہ کمپیوٹر، موبائل فون، نقدی اور زیورات لے گئے۔

افرح کا شمار عراق کی نمایاں ترین صحافیوں میں ہوتا ہے جو عراقی حکام کی بدعنوانی پر کڑی تنقید کرتی رہی ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے وزارتِ داخلہ کے ایک افسر سے متعلق خبر رپورٹ کی تھی جس نے مبینہ طور پر اپنی بیٹی کے ساتھ جھگڑنے والے ایک طالبِ علم کو سزا نہ دینے پر اسکول کے پرنسپل کو سرِ عام مارا پیٹا تھا۔

افرح کی خبر کے مطابق مذکورہ واقعہ عراق کے جنوبی شہر نصیریہ کے ایک اسکول میں طلبہ اور اساتذہ کے سامنے پیش آیا تھا۔

عراق کا شمار صحافیوں کے لیے دنیا کے خطرناک ترین ملکوں میں ہوتا ہے جہاں ہر سال کئی صحافی پیشہ وارانہ فرائض کی انجام دہی کے دوران جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG