رسائی کے لنکس

بلوچستان: دستی بم حملوں میں 40 سے زائد افراد زخمی


دونوں واقعات کی ذمہ داری تاحال کسی گروپ یا تنظیم نے قبول نہیں کی۔ تاہم، اس سے پہلے گوادر اور دیگر ساحلی اضلاع میں ہونے والے پُرتشدد واقعات کی ذمہ داری کالعدم بلوچ عسکری تنظیمیں کرتی رہی ہیں

صوبہ بلوچستان کے دو مختلف شہروں، گوادر اور مستونگ میں دستی بموں کے دو حملوں میں تین درجن سے زائد افرد زخمی ہوگئے، جن میں سے سات کی حالت نازک بتائی گئی ہے۔

لیویز حکام کے بقول، جمعرات کی رات بلوچستان کے ضلع مستونگ کے مرکزی بازار میں شہری خریداری میں مصروف تھے کہ موٹر سائیکل پر سوار نا معلوم افراد نے اُن کی طرف دستی بم پھینکا جس سے زوردار دھماکہ ہوا اور 15 افراد بم کے ٹکڑے لگنے سے زخمی ہوگئے، جنھیں فوری طور پر مقامی اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔ اِن میں سے چھ زخمیوں کو نازک حالت کے باعث کوئٹہ منتقل کر دیا گیا ہے۔

دوسرا دستی بم حملہ بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں مزدوروں پر کیا گیا جس میں 26 محنت کش زخمی ہوگئے۔

پولیس حکام کے مطابق، پاکستان کے دو صوبوں پنجاب اور سندھ سے تعلق رکھنے والے مزدور گوادر میں کام ختم کرنے کے بعد رات کو ایک ہوٹل میں بیٹھ کر کھانا کھا رہے تھے۔ اِسی اثنا میں، موٹر سائیکل پر سوار افراد وہاں آئے اور مزدوروں کی طرف دستی بم پھینکا جس سے زوردار دھماکہ ہوا اور 26 محنت کش بم کے ٹکڑے لگنے سے زخمی ہوگئے، جن کو فوری طور پر گوادر کے مقامی اسپتال منتقل کردیا گیا۔ زخمیوں میں سے ایک کی حالت نازک بتائی گئی ہے۔

پولیس حکام کے بقول، زخمیوں میں 15 کا تعلق صوبہٴ سندھ اور گیارہ کا تعلق صوبہٴ پنجاب سے ہے۔ دونوں واقعات کے بعد پولیس اور فرنٹیر کور بلوچستان کے حکام موقع پر پہنچ گئے اور علاقے کو سیل کرکے عینی شاہدین سے پوچھ گچھ کی اور شواہد جمع کئے۔

دونوں واقعات کی ذمہ داری تاحال کسی گروپ یا تنظیم نے قبول نہیں کی۔ تاہم، اس سے پہلے گوادر اور دیگر ساحلی اضلاع میں ہونے والے پُرتشدد واقعات کی ذمہ داری کالعدم بلوچ عسکری تنظیمیں کرتی رہی ہیں۔

بلوچستان کے ساحلی ضلع گوادر کو پاک چین اقتصادی راہداری کا مرکز قرار دیا جا رہا ہے، جہاں چین کے تعاون سے بندرگاہ کی تعمیر مکمل ہوگئی ہے اور اس سے خلیجی اور دیگر ممالک کو مختلف اشیا بھی برآمد کی جا رہی ہیں، جبکہ اقتصادی راہداری اور ’ون بیلٹ ون روڈ‘ کے منصوبے میں بھی گوادر کو اولیت حاصل ہے، کیونکہ ان دونوں منصوبوں کا آغاز اسی شہر سے ہوتا ہے۔

حکومتِ بلوچستان کا کہنا ہے کہ گوادر شہر کی حفاظت کےلئے گوادر سیف سٹی پراجیکٹ کی منظوری دی جا چکی ہے، اور اس منصوبے پر کافی حد تک عمل بھی ہو چکا ہے، جس کی وجہ سے گوادر شہر میں دیگر علاقوں کی نسبت دہشتگردی کے واقعات نہ ہونے کے برابر ہیں۔

حکومت پاکستان کی طرف سے بھی پاک چین اقتصادی راہداری کی حفاظت کے لئے ایک خصوصی فورس تشکیل دی گئی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG