رسائی کے لنکس

logo-print

گوادر کے غریب مچھیرے کے جال میں پھنسی ایک نادر و نایاب مچھلی


مچھلی کا وزن تھا 96 کلو۔ اسے 26 ہزار روپے میں فروخت کیا گیا۔ اسے ’سافش‘ کہا جاتا ہے۔ اس کے منہ کے اگلے سرے پر آرے جیسے بہت سارے دانت ہوتے ہیں اور آرے کو انگریزی میں ’سا‘ کہا جاتا ہے۔ انتہائی نوکیلے دانتوں والی یہ مچھلی پورے دس فٹ کی تھی

بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں ’سربندر‘ نامی علاقے کا ایک غریب مچھیرا محمد ابراہیم اتوار کو ’اچانک‘ امیر بن گیا۔حسب معمول وہ گھر سے شکار کے لئے نکلا اور سربند کے گہرے پانیوں میں دورانِ شکار اس کے جال میں ایک ایسی مچھلی آپھنسی جس نے اسے آن کی آن میں 26ہزار روپے کا مالک بنا دیا۔

یہ مچھلی تھی ’سافش‘۔ اس کا وزن 96کلو تھا۔ ’ورلڈوائیڈ فنڈ فار نیچر پاکستان‘ یعنی ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے حکام نے پیر کو اس مچھلی سے متعلق تفصیلات میں میڈیا کے نمائندوں کو بتایا اسے ’سافش‘ اس لئے کہاجاتا ہے کہ اس کے منہ کے اگلے سرے پر آرے جیسے بہت سارے دانت ہوتے ہیں؛ اور آرے کو انگریزی میں ’سا‘ کہا جاتا ہے۔ انتہائی نوکیلے دانتوں والی یہ مچھلی پورے دس فٹ کی تھی۔

ماحولیات کی حفاظت کے لئے اقوام متحدہ کی زیر نگرانی کام کرنے والے ادارے ’آئی یو سی این‘ نے دنیا سے بہت تیزی کے ساتھ ناپید ہوتی جن مچھلیوں اور جانوروں و پرندوں کی فہرست ترتیب دی ہوئی ہے اس میں ’سا فش‘ کا نام سرفہرست ہے۔

سا فش کی نسل کو انتہائی خطرہ لاحق ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ شاید کچھ سالوں یا دہائیوں بعد ان کی نسل ہی دنیا سے غائب ہوجائے۔ یہی وجہ ہے کہ سا فش کی خرید و فروخت یا تجارت پر پابندی عائد ہے۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے ایک عہدیدار عبدالرحیم کے مطابق ’’عمومی طور پر مچھیرے نایاب و نادر نسل کی مچھلیوں کے بارے میں بہت محتاط پسندانہ رویہ اختیار کرتے ہیں۔ لیکن، کچھ نسلیں واقعی ایسی ہیں جن کے بارے میں انہیں پتہ نہیں۔یہی سبب ہے کہ سا فش ان کا شکار ہوگئی۔“

عبدالرحیم نے مزید بتایا کہ، ”بلوچستان کے ساحل پر سا فش کا آنا اتفاقیہ ہے کیوں کہ اب سافش تقریباً تقریباً ناپید ہے۔ پچھلے 30 سالوں سے اس کی افزائش میں مسلسل کمی آرہی ہے۔“

ادھر ڈبلیو ڈبلیو ایف، پاکستان کے ٹیکنکل ایڈوائز میرین فشریز محمد معظم خان کے حوالے کے روزنامہ ’ڈان‘ نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ ’پاکستان میں پچھلے آٹھ سالوں کے دوران نایاب نسل کی اس مچھلی کے پکڑے جانے کا یہ صرف چوتھا واقعہ ہے۔“

انہوں نے بتایا ”سنہ 1970 سے پہلے پاکستان میں بڑی مقدار میں یہ مچھلی پائی جاتی تھی جبکہ اس کا نمک لگا خشک گوشت سری لنکا اور ہانگ کانگ کوبرآمد کیا جاتا تھا۔ تاہم، سنہ 1980 کے عشرے میں اس کے شکار میں تیزی آنے لگی جبکہ اس کی عمر لمبی اور افزائش بہت سست ہوتی ہے۔ بڑھوتری میں بھی بہت وقت لگتا ہے جس کے سبب کی سافش کی پیداوار دن دگتی رات چوگنی رفتار سے کم ہوتی چلی گئی اور اب تو صورتحال اور بھی زیادہ فکر انگیز ہے۔ “

XS
SM
MD
LG