رسائی کے لنکس

حافظ سعید کا انتخابی سیاست میں 'حصہ لینے کا اعلان'


حافظ سعید (فائل)

غیر جانبدار حلقے حافظ سعید کے اعلان کو ملک میں شدت پسند سوچ کے حامل بعض گروپوں کو ملک کے مرکزی سیاسی دھارے میں شامل کرنے کی کوششوں کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔

امریکہ اور اقوامِ متحدہ کی طرف سے دہشت گرد قرار دی جانے والی پاکستانی تنظیم، جماعت الدعوۃکے سربراہ حافظ سعید نے اعلان کیا ہے کہ ان کی جماعت آئندہ سال ہونے والے عام انتخابات میں حصہلی گی۔

ذرائع ابلاغ میں منظر عام پر آنے والی اطلاعات کے مطابق حافظ سعید نے یہ بات لاہور میں کالم نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے کہا کہ 2018 کے عام انتخابات میں حصہ لینے کا مقصد بین الاقوامی سطح پر کشمیر کے معاملے کو اجاگر کرنا ہے۔حافظ سعید بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں سرگرم بعض شدت پسند وں کی سرگرمیوں کی حمایت کرتے ہیں۔

غیر جانبدار حلقے طرف حافظ سعید کے اعلان کو ملک میں شدت پسند سوچ کے حامل بعض گروپوں کو ملک کے مرکزی سیاسی دھارے میں شامل کرنے کی کوششوں کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔

سینیئر صحافی اور سیاسی امور کے تجزیہ کار عارف نظامی نے اتوار کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ "جو ایک کوشش ہورہی ہے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 120 سے لے کر اب تک کوشش ہورہی ہے کہ اس قسم کے جہادی گروپوں کو مرکزی دھارے میں لانے کی کوشش ہورہی ہے یہ پیش رفت اس کا حصہ ہے اگرچہ وہ کہتے ہیں کہ وہ رفاع عامہ کا کام کر رہے ہیں اور اگر ان پر کوئی قانونی پابندی نہیں ہے تو وہ الیکشن میں تو حصہ لے سکتے ہیں۔ "

تاہم انہوں نے کہا کہ ایسے گروپ انتخابی عمل میں ایسی سوچ کی ترویج کا باعث بنیں گے جو پاکستان کے بانی محمد علی جناح کے سیاسی نظریہ کے برعکس ہو گی۔

" آپ دیکھ رہیں کے کہ ملک میں عدم برداشت اور انتہا پسندی بڑھ رہی ہے مجھے نہیں معلوم کہ یہ انتخاب میں کس قسم کی نعرے کے ساتھ آئیں گے آیا اس سے ملک میں تشدد بڑھے گا تقسیم بڑھے گی ۔ لیکن یہ وہ ایجنڈا نہیں ہے جس کی بنیاد پر پاکستان بنا تھا اور قائداعظم جس کا اپنی تقریر میں اعادہ کرتے رہے۔"

واضح رہے کہ رواں سال ستمبر میں لاہور کے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 120 کے ضمنی انتخاب میں شریک ایک آزادامیدوارکو ایک نئی سیاسی جماعت ملی مسلم لیگ کی حمایت حاصل تھی۔ ملی مسلم لیگ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اسے جماعت الدعوۃ کی حمایت حاصل ہے لیکن تاحال یہبطورسیاسی جماعت ابھی تک الیکشن کمیشن کے پاس رجسٹر نہیں ہے۔

حافظ سیعد رواں سال جنوری سےاپنے گھر پر نظر بند تھے اور گزشتہ ہفتے لاہور ہائی کورٹ نے انھیں عدم ثبوت کی بنا پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔

بھارت ممبئی میں 2008ء میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی کا الزام حافظ سعید پر عائد کرتا ہے، حافظ سعید اس الزام کو مسترد کرتے ہیں۔

حافظ سعید جماعت الدعوۃ اور فلاحِ انسانیت فاؤنڈیشن کے سربراہ ہیں اور ان دونوں تنظیموں کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی کمیٹی اور امریکہ، دہشت گرد تنظیمیں قرار دے چکے ہیں۔

امریکہ نے حافظ سعید کی گرفتاری میں مدد دینے پر ایک کروڑ ڈالر انعام مقرر کر رکھا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG