رسائی کے لنکس

حافظ سعید کی نظربندی میں توسیع کی درخواست مسترد


امیر جماعت الدعوة الحافظ محمد سعید ، فائل فوٹو

حافظ سعید نے اپنی نظربندی کو بلاجواز قرار دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ انہیں بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے ایک سال سے نظر بند رکھا گیا ہے۔

کنور رحمان خاں

لاهور ہائی کورٹ کے نظر ثانی بورڈ نے امیر جماعت الدعوة حافظ سعید کی نظربندی میں توسیع کی حکومتی درخواست مسترد کر دی ہے۔

پاکستان کے صوبے پنجاب کی سب سے بڑی عدالت لاهور ہائی کورٹ کے جسٹس عبدالسمیع خان کی سربراہی میں تین رکنی نظر ثانی بورڈ کے سامنے حافظ سعید کو پیش کیا گیا۔

ریویو بورڈ نے بند کمرے میں کارروائی کی۔

حافظ سعید نے اپنی نظربندی کو بلاجواز قرار دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ انہیں بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے ایک سال سے نظر بند رکھا گیا ہے۔

حکومت کی جانب سے نظربندی میں 60 سے 90 روز کی توسیع کی درخواست کی گئی تھی۔

نظر ثانی بورڈ نے ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد حافظ سعید کی نظربندی ختم کر دی اور حکم دیا کہ اگر کوئی دوسرا کیس نہیں ہے تو حافظ سعید کو فوری رہا کر دیا جائے۔

اپنی نظر بندی سے رہائی ملنے کے بعد میڈیا سے گفتگو میں حافظ سعید نے کہا کہ بھارت کو خوش کرنے کے لیے انہیں نظر بند کیا گیا، لیکن عدالتی فیصلے کے بعد بھارت کو منہ کی کھانا پڑی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ میری جیت نہیں پورے پاکستان کی جیت ہے ۔ بھارت کو منہ کی کھانا پڑی ہے۔ بھارت نے کہا تھا کہ وہ مجھے رہا نہیں ہونے دیں گے۔ اب انشااللہ کشمیر آزاد ہو کر رہے گا۔

حافظ سعید کو رواں سال جنوری میں نظر بند کیا گیا تھا، جسے بعد میں حکومتی استدعا پر بڑھا دیا کیاتھا۔

حافظ سعید کی نظر بندی پر سیکرٹری داخلہ پنجاب نے سماعت کے بعد کوئی موقف نہیں دیا۔

حافظ سعید کی جماعت الدعوة پر پڑوسی ملک بھارت اور امریکہ نے پابندی لگا رکھی ہے۔

سول سوسائٹی کے نمائندے عبداللہ ملک نے حافظ سعید کی رہائی پر وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کسی بھی شخص کو بغیر کیس وجہ کے حراست میں نہیں رکھ سکتی کیونکہ پاکستان کا آئین ہر شخص کی آزادی کی ضمانت دیتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG