رسائی کے لنکس

logo-print

عراقی فورسز کے لیے اسلحے کی فراہمی تیزی سے جاری ہے: ہیگل


پینٹاگان میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عراقی وزیر اعظم حیدر العبادی کا بیان کہ عراق جنگ میں 'سب کچھ خود سے کر رہا ہے" مددگار نہیں ہے۔

امریکہ کے وزیر دفاع چک ہیگل نے عراقی وزیر اعظم کے اس موقف سے اختلاف کیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکہ کی طرف سے داعش سے برسر پیکار فورسز کو تربیت اور اسلحہ کی فراہمی بہت سست ہے۔

پینٹاگان میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عراقی وزیر اعظم حیدر العبادی کا بیان کہ عراق جنگ میں 'سب کچھ خود سے کر رہا ہے" مددگار نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ "ہمارے اتحاد میں 60 سے زیادہ ممالک شامل ہیں جو عراق کی مدد کے لیے اکھٹے ہوئے ہیں اور میرا خیال ہے کہ وزیر اعظم کو اس بات کا تھوڑا خیال رکھنا چاہیے تھا"۔

وزیر دفاع نے کہا کہ پینٹاگان نے تیزی سے عراق کی درخواستوں پر عمل کرتے ہوئے 1,500 سے زائد ہیل فائر میزائل عراق بھیجے اور اس کے علاوہ 250 ایسی گاڑیاں فراہم کیں جو چھپ کرکیے جانے والے حملوں اور بارودی سرنگوں سے تحفط فراہم کرتیں ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ عراق کو اسلحے اور سازوسامان کی فراہمی ان کے بقول بڑی تیزی سے جاری ہے۔

امریکہ اور دوسرے اتحادی ممالک کے فوجی دستے کرد پیش مرگہ اور عراق فورسز کو تربیت کی فراہمی کے لیے عراق میں کام کر رہے ہیں۔ ہیگل نے کہا کہ اس سلسلے میں قائم کیے گئے تین مراکز کام کر رہے ہیں اور چوتھا جلد ہی کام شروع کر دے گا۔

ہیگل نے کہا کہ ان کے پاس اس حوالے سے کوئی مصدقہ اطلاعات نہیں ہیں کہ امریکی قیادت میں کی جانے والے فضائی کارروائیوں کے آغاز سے داعش کے 6,000 باغی ہلاک ہو چکے ہیں۔

جمعرات کو 21 اتحادی ممالک کے نمائندوں کا لندن میں اجلاس ہوا جہاں العبادی نے کہا کہ عراقی فورسز کو کامیابی حاصل ہو رہی ہے تاہم ان کے بقول انہیں مزید اسلحے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ عراقی معیشت کا 85 فیصد انحصار تیل پر ہے اور عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی عراقی معیشت کے لیے تباہ کن ثابت ہوئی ہے۔

امریکہ وزیر خارجہ جان کیر ی کا کہنا ہے کہ اتحادی رکن ممالک کی حمایت سے عراقی زمینی فورسز کوداعش کے خلاف اہم کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں اور بعض صورتوں میں جنجگوؤں کی پیش قدمی کو یا تو روک دیا گیا ہے یا انہیں دفاعی پوزیشن پر دھکیل دیا گیا ہے۔

حالیہ دنوں میں کرد جنگجوؤں نے امریکہ کی قیادت میں قائم اتحاد کی مدد سے شمالی عراق کے کچھ علاقوں میں داعش کو پیچھے دھکیل دیا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ان کے زیر قبضہ شہر موصل کے لیے سپلائی روٹ کو بھی منقطع کر دیا ہے۔

XS
SM
MD
LG