رسائی کے لنکس

logo-print

ہیٹی: بچوں کی بیرون ملک غیر قانونی منتقلی کے الزام میں دس امریکیوں کو مقدمے کاسامنا



ہیٹی میں جن 10 امریکیوں کو کسی قانونی اختیار کے بغیر بچوں کو ملک سے باہرلے جانے کی کوشش کی بنا پر گرفتار کیا گیاتھا، وہ پیر کے روز پورٹ او پرنس میں ایک مقدمے کا سامنا کررہے ہیں۔

امریکہ میں قائم فلاحی ادارے نیو لائف چلڈرنز رفیوج کے لیے کام کرنے والے پانچ مردوں اور پانچ خواتین کو جمعے کی رات اس وقت گرفتار کیا گیاتھا جب انہوں نے ہیٹی کے 33 بچوں کے ساتھ ڈومینیکن ری پبلک میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی۔

ان بچوں کو پورٹ او پرنس کے ایک بین الاقوامی امدادی ادارے ایس او ایس چلڈرن ولیج کے زیر اہتمام چلنے والے ایک یتیم خانے میں پہنچا دیا گیا جہاں کے ایک ترجمان نے بتایا کہ جب بچے وہاں پہنچے تو وہ پانی کی شدید کمی کا شکار تھے۔

یتیم خانے میں کام کرنے والے کارکنوں کا کہنا ہے کہ کچھ بچوں نے بتایا ہے کہ وہ یتیم نہیں ہیں۔

گرفتار کیے جانے والے کچھ افراد Idaho کے ایک چرچ کے رکن ہیں، جس کے پادری ریورینڈ کلنٹ ہنری نے پیر کے روز سی این این کو بتایا کہ گرفتار کیے جانے والے افراد صرف یتیموں کی مدد کی کوشش کررہے تھے۔

ہیٹی کے سماجی امور کے وزیر Yves Christallin نے اس کارروائی کو اغوا قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کو ملک سے باہر لے جانے کے لیے وزارت کی جانب سے اجازت نامہ حاصل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ حکومت نے بچوں کو گود لینے سے متعلق سرگرمیوں کو معطل کردیا ہے، کیونکہ اسے خدشہ ہے کہ یتیم یا گمشدہ بچوں کو سمگل کیا جاسکتا ہے۔

امریکی فلاحی ادارے کے ارکان نے کسی بھی غلط کام کرنے کی تردید کی ہے۔ ادارے کی ایک ترجمان لورا سیلسبی نے کہا کہ ادارہ ان بچوں کو ڈومینیکن ری پبلک کے ایک یتیم خانے منتقل کرنے کی کوشش کررہاتھا۔ ترجمان کے کہا کہ ان کے ادارے کے پاس ڈومینیکن ری پبلک کی جانب سے فراہم کردہ قانونی دستاویزات موجود تھیں ، لیکن ادارے نے ہیٹی کے عہدے داروں سے تحریری اجازت نامے حاصل نہیں کیے تھے۔

XS
SM
MD
LG