رسائی کے لنکس

logo-print

ہیٹی کو فوری طور پر ماہرینِ موسمیات کی ضرورت ہے: اقوامِ متحدہ


موسمیات سے متعلق اقوامِ متحدہ کے عہدے داروں نے کہا ہے کہ ہیٹی کو عنقریب شروع ہونے والے بارشوں اور طوفانوں کے موسم سے پہلے ، مزید قدرتی آفتوں سے بچنے کے لیے فوری طور پر ماہرینِ موسمیات کی خدمات کی ضرورت ہے۔

اقوامِ متحدہ کی عالمی موسمیاتی تنظیم یا ڈبلیو ایم او نے کہا ہے کہ ہیٹی کی موسمیاتی پیش گوئیوں کی تنصیبات پچھلے مہینے کے زلزلے میں تباہ ہوگئى تھیں۔ اور یہ پیش گوئیاں، بر وقت انتباہ اور ہنگامی صورتِ حال کے لیے ضروری تیاری اور منصوبہ بندی میں انتہائى اہمیت رکھتی ہیں۔

ڈبلیو ایم او کا کہنا ہے کہ عموما جن قدرتی آفات کا سامنا رہتا ہے، اُن میں 90 فیصد کا تعلق موسمیاتی واقعات یا آب و ہوا میں تبدیلیوں سے ہے۔ مثلاً بادو باراں کے طوفان، سیلاب،خشک سالی اور کیچڑ یا مٹی کے تودے پھسلنے کے حادثات۔اُس نے کہا ہے کہ ہیٹی میں موسمیات سے متعلق بنیادی سروسوں کی بحالی پر اندازاً 10 لاکھ ڈالر خرچ ہوں گے۔

اسی دوران، حکام نے کہا ہے کہ پورٹ او پرنس میں پیر کو دیرگئے ایک آدمی کو ایک ایسے مقام پر ملبے سے زندہ نکال لیا گیا ، جہاں ہوسکتا ہے کہ وہ 12 جنوری کے زلزلے کے بعد سےاب تک دفن رہا ہو۔

عہدے داروں نے کہا ہے کہ اس شخص کو ، جو جسم میں رطوبت کی شدید کم کا شکار ہے، مقامی لوگوں نے ایک مارکیٹ کے ملبے سے نکالا ہے۔ اس شخص کے اہلِ خاندان کا کہنا ہے کہ زلزلے کے وقت سے وہیں دبا ہوا تھا۔

ایک مقامی فیلڈ ہسپتال کے ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ ہو سکتا ہے وہ ٹھیک کہتے ہوں۔

12 جنوری کے زلزلے میں دو لاکھ سے زیادہ لوگ ہلاک ہوئے تھے اور تقریباً 10 لاکھ بے گھر ہوگئے تھے۔

سول نے منگل کے روز کہا ہے کہ جنوبی کوریا کی پارلیمنٹ نے تعمیرِ نو کی کوششوں میں مدد کے لیے اتفاقِ رائے سے 240 فوجیوں کو ہیٹی بھیجنے کے ایک منصوبے کی منظوری دے دی ہے ۔ ان فوجیوں کو پورٹ او پرنس کے مغرب میں لیو جَین میں تعینات کرنے کی تیاری کے لیے ایک ہراول ٹیم بدھ کے روز جنوبی کوریا سے روانہ ہورہی ہے۔

اقوامِ متحدہ نے پیر کے روز کہا تھا کہ وہ زندہ بچ جانے والوں کو بروقت ایسے خیموں کی فراہمی کے لیے سر توڑ کوشش کررہی ہے جو بارشوں اور بادوباراں کے اُس سخت موسم کا مقابلہ کرسکیں، جو اپریل میں شروع ہوجائے گا۔

XS
SM
MD
LG