رسائی کے لنکس

logo-print

ہیٹی: متاثرین کو زیادہ تیزی سے امداد پہچانے کے لیے کام جاری ہے


ہیٹی کے دارالحکومت پورٹ او پرنس کے ہوائی اڈے کو امریکہ کے کنٹرول میں دے دیا گیا ہے

ہیٹی میں امدادی کارکن دارالحکومت پورٹ او پرنس میں اور اُس کے اطراف میں زلزلے میں بچ جانے والے لوگوں کو اشد ضروری سامان خوراک اور پینے کا صاف پانی پہنچانے اور انہیں طبّی دیکھ بھال فراہم کرنے کے لیے دن رات کام کر رہے ہیں۔

ہیٹی اور امریکہ نے ایک سمجھوتے پر دستخط کر دیے ہیں جس کے تحت دارالحکومت میں ہوائى اڈے کو امریکہ کے کنٹرول میں دے دیا گیا ہے۔ بہت سا امدادی سامان اسی ہوائى اڈے پر پہنچ رہا ہے۔

زلزلے کے چار دن بعد ہوائى اڈے پر گنجائش سے زیادہ فضائى ٹریفک، ملبے سے اٹی ہوئى سڑکوں اور محدود وسائل کی وجہ سے امدادی کوششیں بدستور سُست ہیں۔

مدد کے لیے دنیا بھر سے آئى ہوئى امدادی ٹیمیں ہیٹی میں جمع ہیں، لیکن ان کارکنوں کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اُن کا پیمانہٴ صبر لبریز ہوتا جا رہا ہے اور اُن کا کہنا ہے کہ وہ اس بارے میں پریشان ہیں کہ امدادی سامان کو اگر جلد ہی تقسیم نہ کیا گیا تو سلامتی کے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔

ہفتے کے روز پورٹ او پرنس کے ہوائى اڈے پر امریکی وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن کی آمد متوقع ہے۔

وہ اس بات کا تعیّن کرنے کے لیے کہ بحالی کی کوششوں میں بہترین مدد کس طرح فراہم کی جاسکتی ہے، ہیٹی کے صدر رینے پریوال، امریکی حکومت کی ٹیموں کے ارکان اور دوسرے امدادی کارکنوں سے ملاقات کریں گی۔

وزیرِ خارجہ کلنٹن نے کہا ہے کہ وہ اپنے دورے کو صرف ہوائى اڈے تک محدود رکھیں گی، تاکہ امدادی کاموں میں کوئى خلل نہ پڑے۔ اس دورے میں امریکہ کی بین الاقوامی ترقیاتی ایجنسی کے نئے سربراہ ڈاکٹر راجیو شاہ اُن کے ہم راہ ہیں۔

ہیٹی کے دارالحکومت میں اب کوئى ایسی پولیس فورس بھی نہیں ہے جو کام کرنے کے قابل ہو۔ زلزلے میں شہر کے واحد جیل کے تباہ ہو جانے کے بعد ہزاروں مجرم آزاد گھوم رہے ہیں۔ عینی شاہدوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے رات کے وقت سڑکوں پر کلہاڑیوں سے مسلح ایسے آدمیوں کو گھومتے پھرتے دیکھا ہے ، جو تباہ شدہ گھروں میں سے جو کچھ ہاتھ لگتا ہے، اسے لوٹ رہے ہیں۔

سڑکوں پر ابھی تک ایسی ان گنت لاشیں پڑی ہوئى ہیں، جن کا کوئى دعوے دار نہیں، جبکہ زندہ بچ جانے والے لوگ تعفّن سے بچنے کے لیے وہ سب کچھ کر رہے ہیں، جو وہ کرسکتے ہیں۔

ہیٹی کے عہدے داروں کا کہنا ہے کہ وہ اب تک اجتماعی قبروں میں لگ بھگ 40 ہزار لاشیں دفن کر چکے ہیں۔اور انہوں نے پیش گوئى کی ہے کہ مرنے والوں حتمی تعداد دو لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔

امریکہ کے اعلیٰ ترین فوجی عہدے دار ایڈمرل مائیک ملَین نے کہا کہ امدادی سامان کی تقسیم میں مدد کے لیے دس ہزار تک امریکی فوجی پیر کے دن تک ہیٹی میں یا اُس کے ساحل کے قریب موجود ہوں گے۔

امریکی بحریہ کا طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس کارل وِنسن 19 ہیلی کاپٹروں کے ساتھ جمعے کے روز ہیٹی کے ساحل کے قریب لنگر انداز ہو گیا تھا ۔ یہ طیارہ بردار جہاز امدادی ہیلی کاپٹروں کے لیے سطح سمندر پر ایک ہوائى اڈے کی خدمات انجام دے گا۔

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان گی مون اتوار کے روز ہیٹی پہنچنے والے ہیں ۔ انہوں نے زلزلے کے متاثرین کے لیے سامانِ خوراک، پینے کے پانی ، ادویات اور خیموں جیسی فوری اہمیت کی اشیا کے لیے 55 کروڑ ڈالر کی امداد کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے بھی کہا ہے جو زندہ لوگ ابھی تک ملبے میں پھنسے ہوئے ہیں، اُنہیں بچا لینے کا وقت تیزی سے گزرتا جا رہا ہے ۔تاہم اُنھوں نے کہا کہ ایسےلوگوں کو تلاش کرنے اور بچا لینے کی کارروائیوں کی رفتار بھی تیز ہے۔

XS
SM
MD
LG