رسائی کے لنکس

logo-print

ہیٹی : نقصان زدہ بندرگاہ کو دوبارہ کھول دیا گیا



امریکی فوج نے کہا ہے کہ اُس نے ہیٹی کے دارالحکومت پورٹ او پرنس کی اُس بندر گاہ کو دوبارہ کھول دیا ہے، جسے زلزلے سے شدید نقصان پہنچا تھا۔ بندر گاہ کے کُھل جانے سے گذشتہ ہفتے کے زلزلے کے متاثرین کے لیے امدادی سامان کی فراہمی کی صورتِ حال توقع ہے کہ بہتر ہو جائے گی۔

امریکہ کی جنوبی کمان کے کمانڈر، جنرل ڈگلس فریزر نے کہا ہے کہ امریکہ کا ایک لینڈنگ کرافٹ جمعرات کے روز ہی150 کنٹینرز یعنی سامان کی بڑی بڑی پیٹیوں کو بندگاہ پر اُتار دے گا اور یہ گنجائش جمعے کے روز اُس وقت بڑھ کر کم سے کم 250پیٹیوں تک پہنچ جائے گی، جب ایک کمرشل جہاز وہاں پہنچ جائے گا۔

بندرگاہ میں بھرے ہوئے ملبے، ٹوٹی ہوئى سڑکوں اور دارالحکومت کے اصل ہوائى اڈے کو پہنچنے والے نقصان کی وجہ سے ہیٹی کے لوگوں کے لیے امدادی سامان پہنچانے میں اب تک بے حد مشکلات کا سامنا رہاہے۔

جنرل فریزر نے کہا ہے کہ 1,400 سے زیادہ طیارے پورٹ او پرنس کے ہوائى اڈے پر اُترنے کا انتظار کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ امدادی سامان کی ترسیل میں مدد کے لیے ہیٹی کے شہر جیک مَیل میں ایک اور ہوائى اڈے کو کھول دیا گیا ہے اور برابر کے ملک ڈومنی کن ری پبلک میں بھی دو ہوائى اڈے کام کررہے ہیں، لیکن ناقص اور ٹوٹی ہوئى سڑکوں کی وجہ سے امدادی سامان کی ترسیل بدستور ایک مسئلہ ہے۔

اسی دوران، ہیٹی میں امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ گذشتہ ہفتے کے تباہ کن زلزلے کے بعد، متاثرہ لوگوں کو سامانِ خوراک اور پینے کا صاف پانی فراہم کرنے میں پیش رفت ہورہی ہے۔ لیکن زخمیوں کا علاج نہ کیے جانے اور بیماریوں کی وجہ سے مرنے والوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔

ہیٹی میں اُس زلزلے کے نو دن بعد، جس نے دارالحکومت پورٹ او پرنس کو مَلبے کے ایک ڈھیر میں تبدیل کردیا ہے، امریکہ کے 12 ہزار سے زیادہ فوجی اُن بین الاقوامی کوششوں حصہ لے رہے ہیں، جن کا مقصدمتاثرہ لوگوں میں امدادی سامان تقسیم کرنا، انہیں علاج معالجے کی سہولت اور تحفظ فراہم کرنا ہے۔

عہدے داروں کا اندازہ ہے کہ زلزلے میں لگ بھگ دو لاکھ لوگ ہلاک ہوئے ہیں اور 30 لاکھ کے قریب لوگ بُری طرح متاثر ہوئے ہیں ۔ اور یہ تعداد اُس ملک کی کُل آبادی کے تقریباً ایک تہائى کے برابر ہے۔

ہلاک ہونے والوں کو مسلسل اجتماعی قبروں میں دفن کیا جارہا ہے۔ جو لوگ زندہ بچ گئے ہیں، وہ گنجائش سے زیادہ بھرے ہوئے اُن کیمپوں میں مقیم ہیں، جہاں صفائى سُتھرائى کا بہت کم یا کوئى انتظام نہیں ہے۔

عارضی اور کام چلاؤ ہسپتالوں کو ہزاروں زخمیوں کو علاج فراہم کرنے کے ایک مشکل چیلنج کا سامنا ہے۔

فلاحی تنظیم ڈاکٹرز وِدآؤٹ بارڈرز کی اطلاع کے مطابق، بعض شفاخانوں میں مریضوں کو 12 روز تک انتظار کرنے کو کہا گیا۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ کچھ مریض جن کے زخموں کا علاج نہیں کیا گیا تھا، زخموں کے پک جانے کے بعد دم توڑ گئے۔

بدھ کے روز امدادی کارکنوں نے کم سے کم دو ایسے بچوں کو ملبے سے نکالا تھا، جو آٹھ روز گزر جانے کے بعد بھی زندہ سلامت پائے گئے تھے۔ جب سے لوگوں کو ملبے میں تلاش کرنے بچانے کی کارروائیاں شروع ہوئى ہیں، کارکنوں کی بین الاقوامی ٹیمیں، 120 سے زیادہ لوگوں کی جانیں بچا چکی ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے خوراک کے عالمی پروگرام کے سربراہ صورتِ حال کا اندازہ لگانے اور حکومت اور امدادی اداروں کے عہدے داروں سے ملاقات کے لیے جمعرات کے روز، دو دن کے لیے ہیٹی پہنچ رہے ہیں۔

زلزلے سے متاثر ہونے والوں میں اقوامِ متحدہ کے کارکن اور دوسرے غیر ملکی بھی شامل ہے۔ اقوامِ متحدہ نے جمعرات کے روز کہا ہے کہ اُس کے عملے کے اب 61 ارکان کی ہلاکت کی تصدیق ہوگئى ہے اور 179 ابھی تک لاپتہ ہیں۔

امریکی مسلح افواج کے عہدے داروں نے کہا ہے کہ بحریہ کے فوجیوں اور مَرین فوجیوں پر مشتمل چار ہزار کی نفری کے ایک ایسے دستے کو، جو خشکی اور تَری ، دونوں پر کام کرسکتا ہے اور جسے کہیں اور تعینات کیا جانا تھا ، اب امدادی کاموں میں مدد کے لیے ہیٹی بھیجا جارہا ہے۔

بدھ کے روز ہیٹی میں زلزلے کے ایک اور طاقتور جھٹکے کے نتیجے میں خوف زدہ لوگ چینختے چلاّتے سڑکوں پر نکل آئے تھے۔ اور کچھ ایسی عمارتی بھی ڈھیر ہوگئیں، جو پچھلے ہفتے 7.0 شدّت کے زلزلے میں پہلے ہی تقریباً تباہ ہوچکی تھیں۔

زلزلے کا یہ جھٹکا امریکی بحریہ کے ہاسپٹل شِپ یو ایس این ایس میں بھی محسوس کیا گیا۔ یہ سمندری ہسپتال بدھ کی صبح ہیٹی پہنچ گیا تھا اور اس نے علاج کے لیے زخمیوں کو قبول کرنا شروع کردیا ہے۔

XS
SM
MD
LG