رسائی کے لنکس

logo-print

ہیٹی میں بچوں کی غیر قانونی خرید و فروخت کے خطرے میں اضافہ



اقوام متحدہ کے بچوں سے متعلق ادارے نے خبردار کیا ہے کہ زلزلے سے متاثرہ ملک ہیٹی بدعنوان افراد کے ہاتھوں بچوں کی غیر قانونی خرید و فروخت کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔یونی سیف کا کہنا ہے کہ وہ تنہا رہ جانے والے بچوں کے لئے مراکز قائم کر رہا ہے۔

یونی سیف کا کہنا ہے کہ ہیٹی میں زلزلے کے سانحے سے قبل بھی بچوں کے ناجائز کاروبار کا خطرہ موجود تھا۔ادارے کا کہنا ہے کہ اس بارے میں دستاویزی شواہد موجود ہیں کہ بہت سے بچوں کو غیر قانونی طور پر ملک سے باہر لے جایا جا چکا ہے۔

یونی سیف میں بچوں کے تحفظ سے متعلق سینئر علاقائی مشیر جین کلاڈے لیگرانڈ کے مطابق اس وقت بھی اس طرح کے واقعات کی خبریں مل رہی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ہمیں بچوں کے خاندان والوں سے نہیں بلکہ اسپتالوں سے بچوں کے غائب ہونے کے لگ بھگ 15 واقعات کا پتا چلا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس اس بارے میں غیر مستند شواہد موجود ہیں لوگ بچوں سرحد پار سین ڈومنگو لے جا رہے ہیں اور یہ بھی مشاہدے میں آیا ہے کہ ہوائی اڈے پر بچوں کو طیاروں میں سوار کرایا گیا ہے۔

لیگرانڈ کا کہنا ہے کہ یونی سیف اور اس کے شراکت داروں نے بچوں کی گمشدیوں کا اندراج کرانے اور سب سے اہم یہ کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے نگرانی کا نظام قائم کر دیا ہے۔

یونی سیف کا کہنا ہے کہ ہیٹی میں انسانی ہمدردی کی اس کی کارروائی میں بچوں کے تحفظ کو مرکزی اہمیت دی جا رہی ہے۔ادارے نے خبر دی ہے کہ اس نے 20 ایسے مراکز قائم کر دیے ہیں جہاں اپنے خاندانوں سے بچھڑنے والے بچے جاسکتے ہیں اور وہاں ان کی دیکھ بھال کا انتظام موجود ہے۔

ان مراکز پر امدادی کارکن ایسے بچوں کی شناخت اور رجسٹریشن کرتے ہیں جن کے ساتھ کوئی بڑا نہیں ہوتا اور پھر انہیں ان کے خاندان سے دوبارہ ملانے کی کوششیں کرتے ہیں۔ یونی سیف کا کہنا ہے کہ ان مراکز میں بچوں کو محفوظ اور دوستانہ ماحول فراہم کیا جا رہا ہے۔ وہاں انہیں خوراک اور ذہنی دباؤ کم کرنے کے لیے کھیل کود کی سہولت مہیا کی گئی ہے۔

ادارے کا کہنا ہے کہ ان میں سے ہر مرکز میں روزانہ تقریباً دو ہزار بچے آ رہے ہیں۔اور جلد ہی دو اور مراکز قائم کر دیے جائیں گے جہاں روزانہ چار ہزار بچوں کی میزبانی کا انتظام موجود ہو گا۔

دنیا بھر کے بہت سے ملکوں کے بہت سے لوگوں نے ہیٹی کے زلزلے میں یتیم ہو جانے والے بچوں کو گود لینے میں دلچسپی ظاہر کی ہے لیکن یونی سیف عمومی طور پر ایک براعظم سے دوسرے براعظم میں بچوں کے گود لینے کے عمل کے خلاف ہے۔ادارے کا کہنا ہے کہ ایسا صرف آخری چارہ کار کے طور پر ہونا چاہیئے۔

لیگرانڈ کا کہنا ہے کہ امریکہ، کینیڈا اور دوسرے ملکوں میں ہیٹی کے بہت سے لوگ آباد ہیں۔ ان میں سے اکثر لوگ یتیم ہو جانے والے ان بچوں کی دیکھ بھال کے لیے رضامند ہوسکتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG