رسائی کے لنکس

logo-print

ہیٹی میں کچھ سکول دوبارہ کھل گئے


ہیٹی میں 12 جنوری کے تباہ کن زلزلے کے بعد دارالحکومت پورٹ او پرنس اور اس کے مضافات میں لوگ اپنی زندگی معمول پر واپس لانے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔ قصبے میر بالے کے ایک سکول میں نئے طالب علم پہنچ چکے ہیں اور توقع ہے کہ چند دنوں میں کلاسیں دوبارہ شروع ہو جائیں گی۔

پورٹ اوپرنس سے ایک گھنٹے کی مسافت پر واقع اس دیہی علاقے میربالے میں بہت سے لوگوں نے اپنی زندگی کے معمولات دوبارہ شروع کر دیے ہیں۔ مقامی چرچ کے زیر اہتمام چلنے والا ایک سکول سرکاری طور پر کھل گیا ہے اوراس کے ڈائریکٹر اور عملے کے ارکان طالب علموں کا انتظار کر رہے ہیں۔

19 سالہ سیموکاسندرہ پورٹ او پرنس کے ان بہت سے طالب علموں میں شامل ہیں جن کے اسکول ابھی بند ہیں اور جو میربالے میں کلاسوں میں رجسٹریشن کے لیے آئے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ میرے سکول کی پوری عمارت نہیں گری، لیکن اسے جزوی نقصان پہنچا ہے۔

سکول کے ڈائریکٹر رافیل سانٹی لاہر کا کہننا ہے کہ پورٹ او پرنس کے باہر کے علاقوں کے طالب علموں کی کمیونیٹیز چاہے زلزلے کے نقصان سے محفوظ ہی کیوں نہ رہی ہوں، مگر یہ طالب علم صدمے کی شدید کیفیت سے گزرے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ہمیں اس چیز کو پیش نظر رکھنا ہو گا کیونکہ ان میں سے بہت سے بچے ابھی تک صدمے کی حالت میں ہیں۔ وہ ابھی تک خوف زدہ ہیں، کیونکہ وہ ریڈیو پر سنتے ہیں کہ ابھی زلزلوں کے بعد کے کچھ مزید جھٹکے آسکتے ہیں۔
پورٹ او پرنس کا ایک بارہ سالہ طالب علم شکر کر رہا ہے کہ وہ میربالے میں ہے۔اس کا کہنا ہے کہ اس کا گھر اور اس کا سکول دونوں تباہ ہو چکے ہیں، اس لیے اس کی والدہ نہیں چاہتی تھیں کہ وہ پورٹ او پرنس میں رہے۔

پورٹ او پرنس میں بہت سے لوگوں کے لیے زندگی بدستور کٹھن اور دشوار ہے۔
وہاں پر خوراک لانے والے ٹرک دیکھتے ہی سینکڑوں مایوس لوگ سڑکوں پر آ جاتے ہیں۔انہیں مفت پانی فراہم کیا جاتا ہے اور لوگ پانی کے حصول کے لیے ریڈکراس جیسے اداروں پر انحصار کرتے ہیں۔

زلزلے میں زندہ بچ جانے والے وہ نوجوان جواس وقت میربالے میں رہ رہے ہیں، اپنی نئے سکول میں کلاسیں شروع ہونے کے منتظر ہیں۔

سکول ابھی خالی ہے لیکن سکول کے ڈائریکٹر رافیل سانٹی لاہر کا کہنا ہے کہ کلاسیں جلد دوبارہ شروع ہو جائیں گی۔ وہ کہتے ہیں کہ میں پر امید ہوں۔ہماری ثقافت میں یہ بات عام ہے کہ سکول کا پہلا ہفتہ عام طور مشاہدے اور جائزے کے لیے ہوتا ہے۔ اس لیے مجھے امید ہے کہ اگلے ہفتے سب کچھ معمول پر واپس آ جائے گا۔

یہاں کے لوگوں کا کہنا ہے کہ ہیٹی میں تعلیمی نظام کی بحالی کے لیے مدد کی ضرورت ہو گی۔ پورٹ او پرنس میں سکول بدستور بند ہیں, کیوں کہ وہ زلزلے کا سب سے زیادہ نشانہ بنے ہیں۔

XS
SM
MD
LG