رسائی کے لنکس

logo-print

ہیٹی کے متاثرین کے لیے اقوام متحدہ کی ایک ارب 40 کروڑ ڈالر کی اپیل


اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان گی مون نے کہا کہ ہیٹی میں انسانی ہمدردی کی صورت حال روز بروز بہتر ہو رہی ہے، لیکن ابھی بڑی ضرورتیں پورا کیا جانا باقی ہے

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے ہیٹی میں آنے والے جنوری کے تباہ کن زلزلے تقریباً30 لاکھ متاثرین کی اس سال کی ضروریات پوری کرنے کے لیے بین الاقوامی برادری سے ایک ارب 40 کروڑ ڈالر سے زیادہ رقم دینے کی اپیل کی ہے۔ جمعرات کے روز انہوں نے یہ اپیل ہیٹی کے لیے امریکہ کے خصوصی سفیر سابق صدر بل کلنٹن کے ساتھ ملاقات میں کی۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان گی مون نے کہا کہ ہیٹی میں انسانی ہمدردی کی صورت حال روز بروز بہتر ہو رہی ہے، لیکن ایسی بڑی ضرورتیں نمایاں طور پر موجود ہیں، جنہیں پورا کیا جانا ابھی باقی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں، ہمیں جلد ہی بارشوں کے موسم کا سامنا ہو گا، جس کے باعث متاثرین کے لیے پناہ گاہوں، نکاسی آب اور صحت کی دیکھ بھال کے اقدامات کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔

اس رقم سے، جس کی فوری ضرورت ہے، 12 لاکھ سے زیادہ بے گھر افراد کے لیے ہنگامی پناہ گاہوں اور نکاسی آب کی سہولتوں کی فراہمی میں مدد کی جاسکے گی۔ جب کہ کم از کم 20 لاکھ متاثرین کی خوراک کی ضروریات پوری کرنے کے لیے 48 کروڑ ڈالر درکار ہوں گے،جو اس رقم کا تقریباً ایک تہائی ہے، جس کی اپیل کی گئی ہے۔

12 جنوری کے فوری بعد اقوام متحدہ نے متاثرین کی چھ ماہ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے 50 کروڑ لاکھ سے کچھ ہی زیادہ رقم کی اپیل کی تھی۔ بین الاقوامی برداری نے اقوام متحدہ کی اپیل پر لبیک کہتے ہوئے اس سے زیادہ رقم فراہم کی۔ سیکرٹری جنرل نے کہا ہے کہ نظر ثانی شدہ اپیل میں وہ رقوم شامل ہیں جو پہلے ہی مل چکی ہیں۔ تاہم اس سال کی ضروریات پوری کرنے لیے مزید رقم کے ساتھ، مجموعی طور پر ایک ارب 40 کروڑ ڈالر درکار ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ان فنڈز کو ہنگامی امداد کی جاری سرگرمیوں پر صرف کیا جائے گا۔مگر اس کے بڑھ کر یہ کہ ہیٹی کی بحالی اور تعمیر نو کے لیے مدد دی جائے گی۔

مسٹر بان گی مون نے ہیٹی کے لیے خصوصی امریکی سفیر سابق صدر بل کلنٹن کا یہ کہتے ہوئے شکریہ ادا کیا کہ یہاں ان کی موجودگی ہیٹی کے لیے ان کی وابستگی کا واضح ثبوت ہے۔

بل کلنٹن گذشتہ ہفتے دل کے مرض میں ہسپتال میں داخل کیے گئے تھے جہاں ان کے دل کی رگوں میں سٹنٹ ڈالے گئے تھے۔ انھوں کلنٹن نے قوموں سے ہیٹی کے متاثرین کے لیے دل کھول کر امداد دینے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان کی دی ہوئی رقم کا شفاف استعمال ہو گا اور اس کی احتسابی عمل سے نگرانی کی جائے گی۔

سابق صدر کلنٹن نے یہ بات بھی زور دے کر کہی کہ ایک ایسی صورت حال میں، ہیٹی کی تعمیر نو ممکن نہیں گی جب ہیٹی کے باشندوں کو اپنی بنیادی ضرورتوں کے لیے روزانہ کی بنیاد پر سوچنا پڑ تا ہو۔

اقوام متحدہ کے عہدے داروں کا کہنا ہے کہ امداد کی درخواست کی مقدار سے، جو 2005ء کے سونامی کی امدادی اپیل سے زیادہ ہے، وہاں ہونے والی تباہی کے حجم، ضرورتوں اور تعمیرِ نو کے لیے درست بنیاد کی اہمیت ظاہر ہوتی ہے۔

XS
SM
MD
LG